اصحاب احمد (جلد 8) — Page 10
کے پیچھے ادا کی ہیں ضائع ہو گئیں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہماری بیعت سے ان نمازوں کی قبولیت کا سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔رضائے الہی کے لئے بہ اخلاص نمازوں کی ادائیگی کے باعث ہی آپ کو بیعت کی توفیق ملی ہے۔پہلے جو کچھ کی با غلطی رہ گئی تھی وہ ہماری تعلیم پر عمل کرنے سے دور ہو جائیگی اور بیعت سے قبل کے رضائے الہی کے لئے کئے ہوئے عمل سے بچے مذہب کو بقیہ حاشیہ: محترم قاضی اکمل صاحب کے بیانات بعض اہم اجزاء میں حضرت مولوی صاحب کے بیانات سے مختلف ہیں۔بعض امثلہ درج ہیں۔جن میں قاضی صاحب کا بیان وحدانی میں درج کیا ہے :- (۱) ۱۸۹۶-۹۷ء میں (غالبا ۱۸۹۴ء میں پہلی بار زیارت قادیان ہوئی)۔مکرم وینیس صاحب کا بیان حضرت مولوی صاحب کی تائید کرتا ہے۔(۲) چا زاد بھائی کے لڑکے سے حضرت مرزا صاحب کے متعلق باتیں معلوم ہوئیں دوسری بار اس سے حضرت اقدس کی کوئی کتاب ملی۔ایک احمدی ہر کارہ نے بھی حضور کی کوئی کتاب ایک ماہ کے لئے دی۔اس سے حضور کے علم و فضل اور اعلیٰ مناظر ہونے کا علم ہوا اور ایک بزرگ نے میرے منہ سے نامناسب کلمہ سُن کر حضرت کے حق میں ایسا کلمہ کہنے سے روکا اور کہا کہ تباہ ہو جاؤ گے۔اس سے میں ڈرا اور حضور کی ملاقات کا شوق پیدا ہوا۔( بٹالہ سے قادیان کا پتہ لگا )۔مکرم و منیس صاحب کا بیان حضرت مولوی صاحب کی تائید کرتا ہے۔(۳) پیر صاحب بٹالہ سے اجازت لے کر قادیان پہنچا۔( پیر صاحب سے مرزا صاحب کا ذکر سُن کر والد صاحب چُپ چاپ قادیان پہنچے۔) مکرم و بنیس صاحب یہ ذکر کرتے ہیں کہ واپس بٹالہ آکر حضرت مولوی صاحب نے پیر صاحب سے قادیان جانے کا ذکر کیا تو وہ سُن کر بہت ناراض ہوئے کہ تم وہاں کیوں گئے اور کہہ کرنمازیں دوبارہ پڑھوائیں۔خاکسار مؤلف کے نزدیک حضرت مولوی صاحب یہ نہیں بول سکتے تھے کہ وہ پیر صاحب سے اجازت لے کر آئے تھے یا نہیں۔یہاں مکرم وینیس صاحب کو سہو ہوا ہے اور واقعہ یوں معلوم