اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 152 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 152

۱۵۳ موجودہ قرب ومعیت یورپ سے واپسی پر (اواخر ۱۹۵۵ء) ڈاکٹر مرزا منوراحمد صاحب دیگر ڈاکٹروں کے مشورہ سے حضور کا علاج کرتے ہیں اور سفر و حضر میں میری معیت کو بھی انہوں نے جاری رکھا ہے۔مئی ۱۹۵۹ء سے خاکسار حضور کی رہائش کے ساتھ والے کمرہ میں قصر خلافت میں ہی دن رات چوبیس گھنٹے گزارتا ہے اور یہ سوانح بھی اس جگہ ضبط تحریر میں لایا ہوں۔گویا اکتوبر ۱۹۶۰ء میں جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے مجھے اکسٹھ سال اور خدمت گذاری میں بیالیس سال ہو جاتے ہیں۔ذالک فضل الله يوتيه من يشاء التجا به درگاه الهی ”حضرت ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میری بس یہی تمنا ہے کہ مولیٰ راضی ہو جائے اور انجام بخیر ہو۔میری اس دعا کی خواہش چھٹین کی ہے جب کہ میں غالباً چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔اس وقت کا واقعہ ہے کہ ایک روز میرے ایک ہم عمر ساتھی نے جن کا نام محمد افضل صاحب قریشی پٹیالوی حال علی پور ضلع مظفر گڑھ ہے اور ہم دونوں حضرت سعدی علیہ الرحمۃ کی کتاب گلستان ایک استاد سے پڑھا کرتے تھے کہا کہ چلو مشاعرہ کریں اور کسی جگہ سے پڑھا ہوا طرح مصرعہ دیا۔ہم غریبوں پر تری اک مہربانی چاہئے نہ معلوم میرے ساتھی نے کیا شعر کہے لیکن میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل شعر ڈالے جو اس کا خاص فضل تھا جو بطفیل غلامی حضرت مسیح موعود علیہ السلام حاصل ہوا۔یہ چند ٹوٹے پھوٹے بے قاعدہ سے شعر چھوٹی عمر میں زبان سے نکلنا اور ایک مضمون ایسا ہونا کہ آج بھی دل سے یہی نکلتا ہے۔تصرف الہی ہے۔ہم تو بندے ہیں ترے عاجز ، غریب وبے نوا ہم غریبوں پر تری اک مہربانی چاہیے