اصحاب احمد (جلد 8) — Page 144
۱۴۵ انسانوں میں داخل ہو جاؤں۔ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس وقت کی انکساری قبول فرمالی اور چند ہی دن بعد اپنے اہلِ بیعت کی تحریک پر آپ بیعت کے لئے آمادہ ہو گئے۔ان کے اہل بیت نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں عرض کرنے کے لئے کہا۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ میرے ہمراہ مرزا صاحب کے مکان پر تشریف لائے لیکن ابتدائی مزاج پرسی کے بعد دونوں طرف غالباً شرم و حیا سے خاموشی طاری تھی۔سوڈاکٹر صاحب نے مرزا صاحب کے ہاتھ پکڑ کر کہا کہ جیسا کہ آپ ظاہر کر چکے ہیں۔آپ اب ہاتھ بڑھا ئیں اور بیعت کر لیں۔چنانچہ انہوں نے برضاء ورغبت ہاتھ بڑھایا اور بیعت کر لی اور یہ عجیب شان نظر آئی کہ بڑا بھائی چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر اپنے تمام گناہوں سے تو بہ کر رہا ہے اور آئندہ ان سے اجتناب کرنے اور نیک کاموں میں حضور کی فرمانبرداری کرنے کا عہد کرتا ہے۔ڈاکٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس رؤیا کے بعد مدت تک مجھے حضرت مسیح موعود کا چہرہ موقع بموقع بیداری میں ہی سامنے نظر آتارہا اور یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا اور حضور کا حسن و جمال جو اس وقت نظر آیا تھا۔ذرہ ہی توجہ سے اب بھی نظر آنے لگتا ہے۔شادی سیده ساره بیگم صاحبه بیان ڈاکٹر صاحب) حضرت سیّدہ امتہ الحئی صاحبہ کی وفات سے جو کمی یا رکاوٹ تعلیم نسواں کے سلسلہ میں نظر آتی تھی اسے دور کرنے کے لئے حضور نے ایک علمی خاندان کی ہونہار تفصیل کے لئے ڈاکٹر صاحب کا مضمون الفضل مورخہ !ار دسمبر ۱۹۴۰ء میں دیکھئے۔ان کے قلمی سوانح میں بھی اس کی کچھ تفصیل موجود ہے۔(مؤلف) بقیہ حاشیہ: والد صاحب مرحوم کو سچا مسیح موعود مانتا ہوں اور میرا خدا اس پر شاہد ہے میں اعلان اور اظہار کو بیعت یقین کرتا ہوں۔“ قبول احمد بیت کا اعلان کر دینے کے بعد بیعت خلافت کا جو نازک ترین مرحلہ باقی تھا وہ بفضلہ تعالی ۲۵ دسمبر ۱۹۳۰ء کو بخیر و خوبی طے ہوا۔( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۵ صفحه ۹۲ تا ۹۴ جدید ایڈیشن)