اصحاب احمد (جلد 8) — Page 134
۱۳۵ توفیق ہجرت۔حضرت کی طرف سے استقبال عشق صادق کی آزمائش کہو یا نار عشق کی بھڑک کا کرشمہ کہ مجھے پٹیالہ گئے ہوئے بمشکل دس دن گذرے ہوں گے کہ حضور کا خط ملا کہ میری طبیعت پھر خراب ہونے لگی ہے۔آپ یا تو فرلو رخصت لے کر یا مستقل طور پر آجائیں اور ساتھ ہی حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو رخصت منظور کروانے کے لئے بھجوا دیا۔میری چھ ماہ کی فرلو رخصت منظور ہوگئی اور صرف اور صرف تیرہ دن کے قیام کے بعد مہاجر فی سبیل اللہ ہو گیا۔میں نے اپنے قادیان پہنچنے کا دن اور وقت خط میں لکھ بھیجے تھے۔جب میری سواری قادیان سے قریباً ایک میل دور تھی تو میں نے دیکھا حضور ٹانگہ پر سوار میری طرف آ رہے ہیں اور اپنے ساتھ مبارک احمد سلمہ اللہ تعالیٰ کو لائے ہیں۔یہ غالبا ۲ رفروری ۱۹۱۹ء کا دن تھا جب سواریاں قریب ہوئیں تو میں اپنی سواری سے نیچے اتر آیا اور حضور بھی اُتر آئے۔میں بعد دعائے سلام مصافحہ کرتا ہوں تو حضور مجھے اپنے ٹانگے پر بٹھا کر گھر واپس چل پڑے ہیں اور مجھے اس بابرکت مکان میں جس کا نام ہی دار البرکات ہے۔جسے حضرت مسیح “ پاک نے اپنے شریف اصغر کے لئے بنوایا تھا ٹھہرا دیتے ہیں میں حضور کی طرف سے اس عاجز کا ایسے رنگ میں استقبال میرے جیسے محب کے لئے تخیلات کا ایک باب کھول دیتا ہے۔میں نے سمجھ لیا کہ یہ استقبال رسمیات سے پاک تھا اور حضور نے اسے یہ رنگ دیا کہ سیر کو نکلے تھے جو میں آتا ہوا مل گیا۔پھر یہ طریق ہے کہ جب کسی کو اچھی چیز 66 زیر عنوان مدینہ اسی ہفتہ مختمه ۶ فروری ۱۹۱۹ ء میں برائے الفضل مورخہ ۸/فروری ۱۹۱۸ء وارد ہو نیوالے احباب میں ” جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب سب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کا نام بھی مرقوم ہے اور اسی عنوان کے تحت الفضل مورخہار فروری ۱۹۱۹ء میں مرقوم ہے کہ خوشی کی بات ہے کہ مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب پٹیالوی کو 4 ماہ کی مزید رخصت حاصل ہوگئی ہے اور آپ حضرت خلیفہ اسی کی خدمت گزاری کے لئے یہاں تشریف لائے۔