اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 125 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 125

۱۲۶ اسی سال ۱۹۱۷ء کے اگست کے آخر میں حضرت ایدہ اللہ بنصرہ نے شملہ کو تشریف لے جانے سے قبل خاکسار کو بھی اطلاع بھجوائی کہ فلاں گاڑی سے سفر کر رہے ہیں۔سو میں نے امیر جماعت پٹیالہ حضرت شیخ محمد کرم الہی کی معیت میں راجپورہ ریلوے اسٹیشن پر شرف زیارت حاصل کیا اور انبالہ چھاؤنی تک ہمسفر رہا۔اس جگہ کا لکا کے لئے گاڑی کے انتظار میں حضور پلیٹ فارم پر تشریف فرما ہوئے۔اس وقت حضور نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب ! سنا ہے پٹیالہ بہت خوبصورت شہر ہے۔ہم یہاں چوبیس گھنٹے کا بر یک جرنی Break Journi) کر سکتے ہیں کیوں نہ دیکھ آئیں؟ میں نے بصد شوق عرض کیا کہ بہت مبارک بات ہے۔پھر سوچ کر فرمایا کہ اگر ہم اس وقت پٹیالہ ہو آئے جبکہ میاں عبداللہ صاحب سنوری موجود نہیں ہیں تو ان کو بہت صدمہ پہنچے گا کیونکہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پٹیالہ گئے تھے تو میاں عبداللہ صاحب بھی ساتھ تھے بلکہ وہ اپنے مکان واقعہ سنور میں بھی حضرت صاحب کو لے گئے تھے۔پھر فرمایا انشاء اللہ واپسی پر سہی۔اس کے بعد حضور کا کا کو روانہ ہو گئے اور خاکسار پٹیالہ کو واپس روانہ ہو گیا اور نماز فجر کے وقت پٹیالہ پہنچا تو تمام رات جاگتے اور خوشی کے جذبات کے ساتھ گذری۔فجر کی نماز کے بعد سب سے پہلا کام حضور کی خدمت میں شملہ خط لکھنے کا انجام دیا۔خط میں لکھا کہ حضور نے آج شب انبالہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر بیٹھے جو اظہار فرمایا تھا کہ واپسی پر پٹیالہ دیکھیں گے میں اس کی یاد دہانی کرواتا ہوں اور ساتھ ہی عرض کرتا ہوں کہ جیسا کہ حضور کو مجلس مشاورت کے موقع پر خاکسار نے ہی پہاڑ پر جانے کا مشورہ دیا تھا اسی طرح اب بھی عرض کرتا ہوں کہ حضور ایک مہینہ کے لئے پٹیالہ میں قیام فرمائیں۔اس پر حضور کا تربیتی رنگ کا خط جواب میں آیا کہ ابھی تو واپسی کی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔اس لئے مقرر ہونے پر اطلاع دی جائے گی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ آپ نے جو یہ لکھا ہے کہ ایک ماہ کے لئے پٹیالہ قیام کیا جائے تو سائل کو چاہئے کہ وہ چیز طلب کرے جس کے ملنے کی امید بھی ہو۔یہ جواب مجھے کیوں سننا پڑا وہ بظاہر اپنے سوال کی غلطی سے لیکن دیوانہ بکار خویش ہوشیار کے رنگ میں ایک ماہ کے قیام کا جو لکھا تھا گو وہ سچے دل سے لکھا تھا کہ دل کا یہی تقاضا تھا کہ