اصحاب احمد (جلد 8) — Page 124
۱۲۵ اور بیعت خلافت کی دعوت دینے والوں میں شامل کر لیا گیا ہے اور خلافت کے استحکام کے لئے مقدور بھر کوشش کی۔خلافت ثانیہ کا دور محض عشق و وفا کا دور نہیں بلکہ عمل و کردار کا دور ہے۔میں سیکرٹری ہونے کے باعث گویا دوہری غلامی میں مربوط تھا اب تبلیغ کی تاکید کی قرناء سنائی دیتی تھی۔چنانچہ اس عاجز کو ان گنت جلسے چند سالوں میں کروانے کی توفیق ملی۔کئی بار حضرت حافظ روشن علی صاحب آئے۔حضرت میر قاسم علی صاحب، حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل اور حضرت میر اسحاق صاحب آئے۔حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب کئی ماہ درس قرآن کریم دیتے رہے۔الغرض اس قرناء کی تعمیل سے پٹیالہ میں میدان کارزار کھل گیا۔ایسا کہ امیر پیغام مع اپنے دوساتھیوں کے پٹیالہ آنے پر مجبور ہو گئے۔تعلقات میں زیادتی اور حضور کی پٹیالہ میں آمد ۱۹۱۷ء میں ایک موقع پر میں قادیان آیا ہوا تھا اور ظہر یا عصر کے وقت حضور کے سامنے مسجد مبارک میں بیٹھا تھا اور اب تلک بھی آپ کے کسی مخاطبہ کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا کہ حضرت نے اس عاجز کو فرمایا ڈاکٹر صاحب! میری نبض دیکھیں کچھ حرارت رہتی ہے۔چنانچہ بندہ نے نبض دیکھی اور دوائی تجویز کر دی۔اگلے روز گھر کو واپس روانہ ہونے سے پہلے اوپر کے مکان میں حاضر ہو کر مزاج پرسی کی توفیق ملی تو اس عاجز کو حضور نے اندر بلا لیا اور فرمایا کہ دوائی تو کھالی تھی لیکن طبیعت ویسی ہی ہے۔میں نے اس وقت یہ مشورہ پیش کر دیا کہ حضور موسم گرما میں پہاڑ پر چند ماہ گزاریں۔“ الفضل مورخہ ۱۸ / مارچ ۱۹۱۴ء میں ستر بہتر بزرگان و احباب جماعت کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ حضرت خلیفہ اول وفات پاگئے اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی منتخب ہوئے۔قریباً دو ہزار احباب اور حضرت ام المومنین اور اہل بیت حضرت خلیفہ اول نے بیت کر لی۔احباب بیعت سے مشرف ہوں۔(ص۱۶) مؤلف