اصحاب احمد (جلد 8) — Page 123
۱۲۴ مقدرت حاصل تھی اور پھر عقل و شعور کے ساتھ بات کر کے فائدہ حاصل کرنے کا سلیقہ حاصل تھا میرے جیسے کم بضاعت اور کم علم اور کم گوکو یہ موقع کہاں؟ لیکن اس علیم و بصیر کی رحمت کا کرشمہ دیکھو کہ مارچ یا اپریل ۱۹۰۹ء میں ایک روز مجھے انار کلی اس وقت لے گیا۔جس وقت حضرت میاں صاحب ایک ساتھی سمیت وہاں پھر رہے تھے۔محبت کا بیج تو دل میں موجود ہی تھا۔میں السلام علیکم کہ کر ساتھ ہولیا۔حضرت میاں صاحب نے وعلیکم السلام تو کہا مگر اور کوئی بات بھی نہ کی۔میں اپنی دلی کیفیت سے مجبور چار پانچ گھنٹے ساتھ ساتھ تو گارہا اور حضرت میاں صاحب نے بھی ساتھ چلنے سے نہ روکا۔آپ نے کئی کتب فروشوں سے کتابیں خریدیں اور پنجاب کی سب سے بڑی یعنی پبلک لائبریری کے ممبر بنے۔گویا ہونہار پر وا کے چکنے چکنے پات والا معاملہ دیکھا۔حضرت میاں صاحب کی تقریر ۱۹۰۹ء میں پھر اس ۱۹۰۹ء کے ماہ اکتوبر یا نومبر میں حضرت میاں صاحب کی ایک تقریر سننے کا موقع ملا جو آپ نے احمد یہ بلڈنگکس میں اسی مضمون پر کی تھی جس پر خواجہ کمال الدین صاحب، مولوی محمد علی صاحب اور مولوی صدر الدین صاحب نے کی تھی۔میرے دل نے اس وقت یہی فیصلہ کیا تھا کہ سب تقریروں میں حضرت میاں صاحب کی تقریر بالا رہی۔یہ چوتھا موقع تھا کہ آپ کی محبت اور قربت میں مجھے بڑھنے کا موقع ملا۔جب ۱۹۱۱ء آیا تو میں ان دنوں مجمع الاخوان کا یعنی لاہور کے احمدی طلباء کی انجمن کا ممبر بن چکا تھا۔اس وقت ہماری انجمن نے جو ریزولیوشن خواجہ کمال الدین صاحب کے مداہنت والے رنگ کے خلاف پاس کیا تھا، اس میں میں بھی شامل تھا۔خلافت ثانیہ پھر جب ۱۹۱۳، آیا اور حضرت خلیلة اصبح اول رضی اللہ عنہ چھ سالہ ضیا اور بزی کے بعد اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملے اور شمع نمبر ۲ کے نور کی چمک کا موقع آیا تو یہ حقیر بھی پٹیالہ سے قادیان پہنچا