اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 111 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 111

۱۱۲ تھا۔کوئی مجلس نہ تھی کہ جس میں لوگ بیٹھے ہوئے باتیں کرتے سنائی دیں۔ہر ایک شخص اپنے قلب حزیں کو سینہ میں لئے تصویر بے جان کی طرح پھرتا نظر آتا تھا۔اس احقر کو جس طرح حضور کی معیت میں خوشی کی گھڑیاں دیکھنا نصیب ہوئی تھیں۔جن سے حضور کی خاص شفقت اور خاص محبت اور دلی محبت معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح ان غم کی گھڑیوں کا دیکھنا بھی مقدر تھا۔ایسے موقع پر عام طور پر اعزہ واقارب ہی قریب جمع ہوتے ہیں۔پھر ان کے غم واندوہ کے بھی درجات ہوتے ہیں۔مگر میں اپنی نسبت تو کہتا ہوں کہ مجھے اس قد رغم واندوہ پہنچا تھا کہ شاید ہی کسی اور کو پہنچا ہوالا ماء شاء اللہ ﷺ کیونکہ میری حیثیت ایک غریب الوطن مسافر کی تھی جو نادار بھی تھا اور پہلے سے زخم خوردہ تھا کہ بالکل قریب کے عرصہ میں والدین اور اہلیہ کے گویا تین وفاتوں کے جاں گسل صدمات اٹھائے ہوئے تھا کہ پھر پیارے کے ارتحال کا ایک عظیم اور جانکاہ حادثہ برداشت کرنا پڑا۔اس سانحہ کے بعد دن اور رات کے وقت میں پانی پینا یاد نہیں۔کھانا تو بڑی چیز ہے۔پھر میں ۲۷ مئی کی شام تک جبکہ حضور کو دفن کر دیا گیا۔حضور کی حضوری میں رہا۔مجھے اپنے رب محسن کا خاص احسان نظر آتا ہے کہ اس نے مجھے یہ غم کی گھڑیاں نصیب کیں۔میں ان گھڑیوں کو بڑی کمائی سمجھتا ہوں۔اغیار اشرار کا رویہ جہاں جماعت احمدیہ کے افراد احمد یہ بلڈنگ میں غم واندوہ میں وقت کاٹ رہے تھے دشمن ہاں شریر دشمن بھی ہنسی ٹھٹھے کو انتہا تک پہنچائے بغیر نہ رہ سکا اور اس نے قبل از وقت فرمودہ کی تصدیق پورے طور پر کر دی۔چنانچہ میرے کان ان شریروں کے دکھ دینے والے الفاظ کو آج تک یادر کھے ہوئے ہیں۔ایک نے کہا مرزا مر گیا ، دوسرے نے کہا مرا نہیں بھدرک کے میلہ پر گیا ہے۔یہ ایک مقامی میلہ کا دن تھا۔پھر میری آنکھ میں نمک چھڑ کا۔ان اشرار نے حضور کا ہر صحابی یہ سمجھتا تھا کہ حضور مجھ سے زیادہ شفقت سے پیش آتے تھے۔اسی طرح ہر ایک اپنے صدمہ کو زیادہ سمجھتا تھا۔یہ حضور سے محبت و عشق کا طبعی نتیجہ تھا لیکن جسے پے در پے صدمات بھی پہنچ چکے ہوں لازماً یہ صدمہ اسے بہت زیادہ محسوس ہوا ہوگا۔مؤلف