اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 101 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 101

۱۰۲ اسی روز مسیح پاک کی بھی تقریر سنی اور خوب سیری حاصل ہوئی۔نماز مغرب و عشاء ( جمع کردہ) ادا کی اور مسجد مبارک میں حسب الارشاد مجلس معتمدین صدر انجمن کے جنرل اجلاس میں شامل ہونے کی غرض سے بیٹھ گیا کہ اجلاس کے بعد کھانا کھالوں گا۔اعلان کے مطابق اس میں جماعتوں کے صدر صاحبان اور سیکرٹریوں کی شمولیت ضروری تھی۔میں اس وقت کمزور تھا۔بھوکا تھا کہ صبح آٹھ بجے کا کھانا کھایا ہوا تھا۔دن میں اور کچھ کھانے کو میسر نہ آیا تھا۔ہمیں سالہ جوان تھا۔شاید ایک آدھ کے سوا باقی تمام احباب سنتوں وغیرہ سے فارغ ہو کر مسجد سے چلے گئے تھے۔اس حال کے پیش نظر نفس تقاضا کرتا تھا کہ اٹھ کر چلا جا کہ غالباً اراکین صدر انجمن احمدیہ کھانا کھانے کے لئے چلے گئے ہیں اور سب لوگ لنگر میں کھانا کھا رہے ہیں۔تو بھی جا کر کھانا کھا کر چلا آ۔لیکن غریب دل ڈرا کہ مبادا غیر حاضر ہو جاؤں، بیٹھا رہا، بیٹھا رہا۔پورے دو گھنٹے انتظار میں گزر گئے۔بھوک نے بہت ستایا۔قریباً پونے نو بجے معزز اراکین صدر انجمن اور چند احباب جماعتہائے بیرون تشریف لے آئے۔اجلاس شروع ہو کر پونے بارہ بجے رات ختم ہوا۔خواہش خوراک از خود ختم ہوگئی کہ بھڑک کی طاقت ہی باقی نہ رہی تھی۔مسجد سے نیچے اترا اور طوعا وکر ہا لنگر کا رخ کیا جسے بند پایا۔ناچاراپنی جائے قیام پر جو بیت المال کے کمروں میں تھی واپس آ کر سونے کو تھا کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی کہ جس مہمان بھائی نے کھانا نہیں کھایا وہ لنگر خانہ میں جا کر کھانا کھالے۔چنانچہ بندہ گیا اور جو کچھ ملا شکر کر کے کھا کر چلا آیا کہیں اگلی صبح کے نو دس بجے میں دیکھتا ہوں کہ پیارا مسیح “ پاک چھوٹی مسجد کے چھوٹے دروازہ میں گلی رُخ کھڑا ہوا ہے اور کئی ایک عشاق سامنے کھڑے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ مولوی صاحب کو بلائیں۔چنانچہ حضرت مولوی نور الدین صاحب سامنے حاضر ہوئے تو فرماتے ہیں معلوم ہوتا خاکسار کے استفسار پر آپ بیان کرتے ہیں کہ دوبارہ لنگر کھول کر رات کے بارہ بجے منتظمین نے مجھے کھانا کھلایا تھا۔جو دال روٹی پر مشتمل اور کافی ٹھنڈا تھا۔یہ معلوم نہیں کہ اس وقت کون ن منتظیم لنگر خانہ اور باورچی تھے لیکن حال ہی میں حکیم حمد عمر صاحب نے مجھے بتلایا کہ وہ منتظم لنگر خانہ تھے۔(مؤلف)