اصحاب احمد (جلد 8) — Page 96
۹۷ محمد صدیق صاحب پٹیالوی جو آج کل وائسریگل لاج میں ملازم ہیں، شیخ محمد افضل صاحب جو شیخ کرم الہی صاحب کے چچا زاد بھائی ہیں اور اس وقت سکول کے طالب علم تھے، میاں خدا بخش المعروف مومن جی جو آج کل قادیان میں مقیم ہیں اس موقع پر قادیان آئے تھے۔ہم مہمانخانہ میں ٹھہرے تھے۔ہمارے قریب اور بھی مہمان رہتے تھے۔جن میں سے ایک شخص وہ تھا جو فقیرانہ لباس رکھتا تھا۔اس کا نام مجھے یاد نہیں کہ وہ ہم سے کئی روز پہلے کا آیا ہوا تھا۔جس روز ہم قادیان پہنچے۔اس فقیرانہ لباس والے شخص نے ذکر کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا تھا کہ میری بیعت لے لیں۔آپ نے فرمایا کچھ دن یہاں ٹھہر و۔بیعت کی کیا جلدی ہے ہو جائے گی۔وہ شخص دو تین دن تو ڑ کا رہا لیکن جس روز ہم یہاں پہنچے تھے۔اس شام یا اگلی شام کو بعد نماز مغرب یا عشاء حضور نے لوگوں کی بیعت لی۔ہم طلباء نے بھی بیعت کی۔اس وقت اس شخص نے بھی چپکے سے بیعت کر نیوالوں کے ساتھ ہاتھ رکھ دیا۔اگلی صبح آٹھ نو بجے کے قریب حضرت مسیح موعود حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے موجودہ سکونتی مکان کی بنیادوں کا معائنہ کرنے کے لئے اس جگہ پر تشریف فرما تھے کہ ہم مہمانانِ موجود دالوقت بھی حضور کی زیارت کے لئے حاضر ہو گئے۔اس وقت اس مہمان نے آگے بڑھ کر کہا حضور میں نے رات بیعت کر لی ہے۔حضور نے ہنس کر فرمایا بیعت کر لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ استقامت اختیار کرنا اور اعمال صالحہ میں کوشش کرتے رہنا ضروری ہے۔اسی طرح کی مختصر مگر مؤثر تقریر حضور نے فرمائی۔حکمت الہی ہے کہ وہ شخص اگلے روز ہی ایسی باتیں کرنے لگا کہ گویا اسے سلسلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایک دوروز تک دشنام دہی تک نوبت آگئی اور اسی حالت میں وہ قادیان سے نکل گیا۔ڈاکٹر صاحب نے خاکسار مؤلف اصحاب احمد کولکھا ہے کہ یہ نومسلم عبدالحق نام سکنہ گیا تھا روایت نمبر ۵۸۶ میں چھ ہفتہ میں آئے مولوی عبداللہ صاحب، میاں محمد صدیق صاحب، حافظ نور محمد صاحب، محمد افضل صاحب، خدا بخش صاحب، حشمت اللہ صاحب طالبعلم پٹیال۔۔۔۔۔شیخ عبدالحق صاحب نو مسلم سابق بشن داس ساکن گیا حال رحیم آباد آریہ جو دیانند کی صحبت میں