اصحاب احمد (جلد 8) — Page 87
۸۸ رکھتی تھیں دونوں کو تین دن تک قادیان میں قیام اور تجدید بیعت کا موقع ملا۔محترمہ بشیر صاحبہ نے ۱۰ اپریل ۱۹۰۸ء کو قریباً باسٹھ سال کی عمر میں اپنے خاوند کی وفات کے قریباً نصف سال بعد وفات پائی۔مرحومہ بچوں کے لئے شفیق والدہ تھیں۔مار پیٹ تو کیا ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں کرتی تھیں۔آٹے کی صفائی کا خاص خیال رکھتیں۔دوسرے بچے جو کھانے کے وقت گھر پر ہوتے ان کو بھی کھانا کھلاتیں۔خاوند بیوی دونوں ایک دوسرے سے حسن سلوک سے پیش آتے۔آپ خاوند کا احترام کرتیں۔ان کے ساتھ ہی صبح بیدار ہو کر نوافل پڑھتیں۔آخری عمر میں اپنے بچوں سے قرآن شریف پڑھنا شروع کیا اور وفات تک کچھ پارے پڑھ لئے تھے۔محترمہ رحیم النساء صاحبة محترمہ رحیم النساء صاحبہ مولیٰ بخش صاحب کی تیسری اولاد تھیں۔آپ اور دونوں بھائی ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے۔رحیم بخش صاحب تو جتنی دفعہ گھر آتے ہمشیرہ کو جن کا گھر سامنے ہی تھا ، دیکھ کر جاتے اور پھل وغیرہ لاتے تو پہلے اُن کو حصہ دیتے۔ان کی شادی حکیم رحمت اللہ صاحب سے (جن کا ذکر آگے آتا ہے ) ہوئی تھی اور آپ کے بطن سے چار بچیاں خیر النساء ، مہر النساء ( صحابیہ ) ، رحم النساء اور فاطمہ امتہ الحفیظ پیدا ہوئیں۔بڑی بچی کی شادی حکیم صاحب کے احمدی ہونے سے دس سال قبل ان کے بھتیجے سے ہوئی تھی جو خود احمدی نہ ہوا۔اولا د سے محرومی رہی۔اس بچی کی وفات ۱۹۱۱ء میں احمدیت میں ہوئی۔محتر مہ رحیم النساء صاحبہ بہت عقلمند اور قرآن کریم کو اچھی طرح جاننے والی خاتون تھیں۔آپ نے سینکڑوں لڑکیوں کو قرآن کریم پڑھایا۔حکیم رحمت اللہ صاحب محترمہ رحیم النساء صاحبہ کے خاوند حکیم رحمت اللہ صاحب قوم کے مغل تھے۔آپ کے ا قارب سہارنپور اور ریاست پٹیالہ کے ایک قصبہ رتہ کھیڑا میں بود و باش رکھتے تھے لیکن آپ