اصحاب احمد (جلد 8) — Page 86
۸۷ کی حسب توفیق مدد کرتے رہے بلکہ ان کے ایک بیٹے کو کافی عرصہ تک اپنے گھر میں رکھا۔اپنی اولاد کی پرورش کا بھی خاص اہتمام کیا۔چاروں بیٹوں کو قرآن مجید پڑھانے کے علاوہ اردو اور فارسی کی تعلیم بھی دلوائی ایک کو قرآن مجید حفظ کروایا۔آپ ہمیشہ سال بھر کی ضرورت کے لئے غلہ اور دوسری اجناس فصل نکلنے پر خرید لیتے اور موسم پر اچار اور مربہ بھی کافی مقدار میں تیار کر ا لیتے اور گھی وغیرہ کے لئے گائے رکھنے کا انتظام رہتا۔اس طرح اہل و عیال کو ہمیشہ سہولت میسر رہتی۔اپنی رفیقہ حیات اور ان کے اقارب سے بھی حسنِ سلوک آپ کا طریق تھا۔آپ اپنی ہمشیرہ اور ان کی بچیوں سے بھی بہت محبت رکھتے تھے۔چنانچہ مرحومہ کی بچیاں مرحوم کے بچوں سے ہی بیاہی گئیں اور بہت برکت کا موجب ہوئیں۔آپ کی شفقت علی خلق اللہ کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ۱۸۹۵ء میں ایک شخص مسمی چھوٹو شاہ صاحب کو ایک مقدمہ کی وجہ سے دیہات سے بار بار پٹیالہ شہر میں آنا پڑتا تھا۔اس لئے چاہتے تھے کہ شہر میں قیام کے لئے کوئی جگہ مل جائے۔آپ نے اُن کو اپنی دکان پر ٹھہرالیا اور وہ دکان کے نیم مالک بن کر رہ گئے اور پھر ۱۹۰۳ء میں سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے اور تین چارسال بعد ایک مخلص احمدی کی حیثیت میں وفات پائی۔آپ کی اہلیہ محترمہ آپ کی رفیقہ حیات محترمہ بشیر اصاحب تھیں جو ریاست پٹیالہ کے قصبہ سامانہ میں پیدا ہوئیں۔آپ میاں نبی بخش صاحب آہنگر ایک نیک مسلمان کی دختر تھیں۔آپ بھی اس وقت احمدیت میں شامل ہوئیں۔جب آپ کے رفیق حیات نے ۱۸۹۹ء میں مولوی عبد القادر صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔مرحومہ کو اپنے خاوند پر یہ تقدم حاصل تھا کہ ان سے تین سال قبل ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کا موقع حاصل کر سکیں۔ان کو اس موقع پر اپنی بڑی بہو مرحومہ مہر النساء صاحبہ اہلیہ محمد یوسف صاحب کے ہمراہ حضور کے خاص مہمان بننے کا شرف حاصل ہوا۔آپ کو اس کمرہ میں ٹھہرا دیا گیا جو حضرت حجتہ اللہ نواب محمد علی خان صاحب کے شہر والے مکان کے ملحق گلی کی چھت پر ہے اور جس میں تقسیم ملک کے وقت سیدہ ام متین صاحبہ رہائش