اصحاب احمد (جلد 8) — Page 85
۸۶ حضور سے محبت رکھتے تھے۔مرحوم قبرستان نز دمحلہ ناصر آباد میں دفن کئے گئے۔اللھم اغفر لهما وارحمهما۔آمین۔رحیم بخش صاحب مولی بخش صاحب کے دوسرے فرزند رحیم بخش تھے۔جو ۱۸۹۹ء والی بیعت میں جو مولوی عبد القادر صاحب کے ہاتھ پر کی تھی ، شامل تھے۔آپ پر بیعت کا عجیب اثر دیکھا گیا۔آپ حضرت مسیح موعود کی کتب کا بڑے غور سے مطالعہ فرماتے۔جس کا موقع آپ کو بعد نماز تہجد ملتا۔اس تھوڑے وقت کے مطالعہ میں آپ نے بہت سی کتب سلسلہ بشمول براہین احمدیہ ہر چہار حصص پڑھ لیں۔۱۹۰۵ء میں اپنے بیٹے محمد ظہور صاحب کی معیت میں آپ نے بمقام لدھیانہ حضرت مسیح موعود کی زیارت کی اور حضور کے دست مبارک پر بیعت بھی کی۔اگست ۱۹۰۷ء میں آپ ہیضہ سے ایک دن بیمار رہ کر عالم جاودانی کو سدھارے۔آپ ساده منکسر المزاج، علم دوست اور خدمت گذار انسان تھے۔تہجد اور نماز باجماعت کے بہت پابند تھے۔تہجد کے بعد قرآن مجید کی بھی باقاعدگی سے تلاوت کرتے تھے۔ایک بار ناظرہ اور ایک بار باترجمہ اور قرآن کریم کے ختم کرنے پر اکثر اپنے بچوں میں کچھ مٹھائی بھی تقسیم کرتے تھے۔باوجود یکہ آپ کا بہت سا وقت اردو، فارسی اور حکمت کی تعلیم پر صرف ہو گیا تھا اور آپ لکڑی کے خراد کے چنداں ماہر نہ تھے۔پھر بھی چھوٹے چھوٹے کام کر کے آپ کی کمائی میں برکت ہو جاتی تھی۔اس طرح اللہ تعالیٰ کی توفیق سے آٹھ بچوں کے بڑے کنبہ کے اخراجات برداشت کرنے کا سامان ہوتا رہا۔( تین بچے بچپن میں فوت ہو گئے ) آپ بیواؤں اور یتامیٰ کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے۔اور بیواؤں سے بہت دعائیں لیتے تھے اور محلہ کی حاجتمند خواتین کے کام بھی کر دیتے۔اقارب کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔چنانچہ آپ کے برادر نسبتی کالے موتیا بند سے آنکھوں سے معذور ہو گئے تو آپ ان کے اہل وعیال دہلی سے واپسی پر حضور ۵/ نومبر کو لدھیانہ وارد ہوئے اور رنومبر کو وہاں سے روانہ ہوئے (مؤلف)