اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 79 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 79

۷۹ (۹) ایک دفعہ حضرت مولوی محمد جی صاحب نے بیان کیا تھا کہ میری طالب علمی کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ عبدالحئی صاحب عرب ہر ماہ کے شروع میں آپ سے کچھ وظیفہ لیا کرتے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے عرض کی مجھے اس دفعہ چالیس روپے کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں چالیس روپے دے دوں گا۔مگر پندرہ تاریخ کو عرب صاحب نے یہ بات مان لی اور چلے گئے۔پندرہ تاریخ کو اتوار تھا۔اس لئے اس روز منی آرڈر نہیں آنے تھے اور حضور کی آمدنی منی آرڈروں کے ذریعہ سے یا دستی طور پر بیماروں کے ذریعہ سے ہوا کرتی تھی۔میں نے عرب صاحب سے کہا کہ حضرت مولوی صاحب فرمایا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ میری ضرورتیں پوری فرمایا کرتا ہے۔اب آپ آخر وقت میں آئے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضور کو خدا تعالیٰ اب کہاں سے دیتا ہے۔میں نے تمام دن نگرانی رکھی۔اب دیکھا کہ کسی بیمار نے آپ کو کچھ نہیں دیا۔عصر کی نماز کے وقت وضو کے لئے میں نے پانی کا لوٹالا کر دیا اور حضور باہر وضو کرنے چلے گئے۔اس غیر حاضری میں میں نے آپ کی واسکٹ اور کوٹ کی جیبوں کو خوب دیکھا ان میں کچھ نہ تھا۔جب حضور اندر آئے اور کوٹ واسکٹ پہن کر چلنے لگے تو عبدالحئی صاحب بھی آگئے۔حضور نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور چالیس روپئے نکال کر ان کو دے دئے۔میں ہنس پڑا۔حضور نے مجھ سے ہنسنے کا سبب پوچھا۔میں نے عرض کیا میں نے آپ کے جیب دیکھ لئے تھے ان میں تو کچھ نہ تھا معلوم نہیں یہ روپے کہاں سے آگئے ہیں۔آپ نے فرمایا لوگ کیا جانتے ہیں کہ میرے خدا کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے۔(۱۰) ایک دفعہ میں موضع کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں ایک دوست حکیم خادم علی صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔حکیم صاحب کا ایک رشتہ دار جو جموں کا رہنے والا تھا وہ بھی موجود تھا یہ دوست حضرت مولوی نور الدین صاحب کا شاگر د تھا اور آپ کے جموں کے قیام کے زمانہ میں آپ کا کمپاؤنڈ بھی رہا تھا۔اس نے چند باتیں آپ کے متعلق بتا ئیں۔“ (11) اس نے یہ بھی ذکر کیا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب کشمیر سے راولپنڈی کے راستہ سے واپس آ رہے تھے کہ دوران سفر میں روپیہ ختم ہو گیا۔میں نے اس بارہ میں عرض کی۔آپ نے فرمایا یہ گھوڑی چار پانچ صد روپیہ میں بیچ دیں گے فوراً بک جائیگی اور خرچ کے لئے روپیہ