اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 73 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 73

(۴) مولوی جان محمد صاحب جوڈسکہ میں فارسی مدرس تھے انہوں نے مجھے فرمایا کہ ایک دفعہ وہ اور ان کی بیوی قادیان گئے ہوتے تھے کہ کسی نوکرانی نے چاول ( حضرت مسیح موعود ) کے گھر سے چرا لئے۔جب وہ جانے لگی تو گھر کی عورتوں نے اسے پکڑ لیا اور اس کو چورنی کہہ کر جھڑ کنے لگیں۔حضور آواز سُن کر (اپنے) کمرہ سے باہر تشریف لائے اور عورتوں کو منع فرمایا کہ اسے چورنی مت کہو اور فرمانے لگے کہ اگر کسی آدمی کے دو گھر ہوں اور وہ ایک گھر سے کوئی چیز دوسرے گھر میں لے جارہا ہو تو اس کو چور کہا جاسکتا ہے؟ یہ گھر اس کا اپنا ہے اور دوسرا گھر بھی اس کا ہے۔یہ اپنے ایک گھر سے دوسرے گھر میں چاول لے جارہی تھی تو چور کیسے ہوئی ؟ اس نوکرانی کو کہا کہ لے جاؤ اور چاول چھوڑ کر جلد واپس آؤ اور خود اپنے دست مبارک سے وہ چاول کی گٹھڑی اس کے سر پر رکھ دی۔کچھ دیر کے بعد آپ نے دریافت فرمایا کہ وہ (واپس) آئی ہے یا کہ نہیں۔جب معلوم ہوا کہ نہیں آئی تو کسی کو بھیج کر واپس بلا لیا۔(۵) ایک ہندو دکاندار نے جس کا نام غالباً گورداس تھا۔مجھے بتایا کہ ایک دفعہ اس کی والدہ سخت بیمار ہو گئی۔آپ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام بڑ ان کے راستہ میں سیر کو گئے ہوئے تھے۔میں راستہ میں کھڑا رہا۔جب آپ واپس آئے تو میں نے عرض کی کہ میری ماں سخت بیمار ہے۔حضور اس کو دیکھیں۔آپ نے تمام دوستوں کو جو آپ کے ساتھ تھے۔ٹھہرنے کے لئے فرمایا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کو ساتھ لے کر میرے ساتھ میرے گھر تشریف لے گئے اور باجود میرا گھر گندہ ہونے کے آپ نے کوئی نفرت نہ کی اور میری ماں کو اچھی طرح دیکھا اور فرمایا کہ ہمارے گھر آکر دوائی لے آنا۔میں جا کر دوا لے آیا اور اس سے میری ماں تندرست ہوگئی۔(۶) ۱۹۰۵ء کے جلسہ (سالانہ ) کے دنوں کی بات ہے کہ ایک دن میں مسجد اقصیٰ سے واپس آ رہا تھا۔تو آپ چھوٹی مسجد کی اندرونی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر بعض دوستوں سے گفتگو فرمار ہے تھے۔بیرونی سیڑھیاں ابھی نہیں بنیں تھیں۔ان دوستوں میں ایک چوہدری نصر اللہ خان صاحب بھی تھے۔کسی دوست نے عرض کی کہ لوگ اولاد کی خاطر روپیہ پیسہ جمع کرتے ہیں تا کہ ان کو