اصحاب احمد (جلد 8) — Page 66
۶۶ کہ میرے والد اور چچا کو پہلے کھانسی اور پھر سل ہو گئی تھی۔مجھے اس پر بہت رحم آیا۔میں نے دعا کی تو میرے دل میں ڈالا گیا کہ خشکی کی وجہ سے کھانسی ہے۔چنانچہ میں نے گھر میں سویاں پکوائیں اور اسے بلا کر کھلائیں جس سے اسے بکلی شفا ہوگئی۔(۳) میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک نہایت عمدہ گھوڑی پر سوار ہوں۔میں اچانک اس گھوڑی سے نیچے اتر گیا اور باوجود یکہ اسے پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بھاگ نکلی۔میں نے سمجھا کہ یہ خواب میری اہلیہ کے متعلق ہے چنانچہ دو سال کے بعد وہ اچانک بیمار ہوگئیں اور باوجود بہت علاج کرنے کے وفات پاگئیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔(۴) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے بڑے لڑکے غلام احمد کو دفنوترہ کا مرض لاحق ہو گیا۔کئی ماہ عزیز نے لاہور کے میوہسپتال میں علاج کرایا۔پھر اپنی ہمشیرہ ڈاکٹر غلام فاطمہ کے پاس چلا گیا۔انہوں نے بھی علاج میں بہتیری کوشش کی لیکن شفا نہ ہوئی۔بالآ خر عزیز قادیان چلا آیا۔ایک دن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے لئے دعا کی توفیق دی اور وہ منظور ہوگئی اور یہ بات میں نے عزیز کو بتا دی اور کہا کہ شرط یہ ہے کہ جو کچھ کہوں وہی کرو اور کھاؤ۔چنانچہ میں نے ایک پاؤ سبوس اسبغول اور ایک سیر کھانڈ لے دی اور صبح و شام استعمال کرنے کو کہا۔بفضلہ تعالیٰ دو روز میں بکلی صحتیاب ہو گیا۔(۵) نومبر ۱۹۰۹ء کا ذکر ہے کہ میری کتاب الجبرا گم ہوگئی اور چونکہ میں ابھی نیا مدرس تھا اس لئے بغیر مطالعہ کے نہیں پڑھا سکتا تھا۔اس لئے مجھے بہت تکلیف محسوس ہوئی۔رات کو خواب دیکھا کہ میں نے اپنی کتابوں میں اس کی تلاش شروع کی ہے۔جب میں نے پہلی کتاب اٹھائی تو مجھے الجبرا کی کتاب مل گئی۔صبح کی نماز ادا کر کے میں لحاف اوڑھ کر بیٹھا ہوا تھا کہ خواب یاد آئی۔تو میں نے حافظ عبدالرحیم صاحب کپور تھلوی سے کہا کہ میری کتاب مل گئی ہے۔انہوں نے پوچھا کہاں سے۔اس پر میں نے خواب سنایا۔اس پر میرے چھوٹے بھائی لال دین نے کہا کہ میں دیکھوں؟ میں نے کہا دیکھو۔چنانچہ عزیز نے جب پہلی کتاب اٹھائی تو نیچے مطلوبہ کتاب پڑی تھی حالانکہ ان کتابوں کو میں کئی دفعہ دیکھ چکا تھا۔