اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 62 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 62

۶۲ اور معمولی کمی بیشی کی اور حضور نے بھی منظوری دے دی اور اس کا نام احمد یہ سٹور“ رکھا۔جلسہ سالا نہ (۱۹۱۶ء یا ۱۹۱۷ء) کا قرب تھا۔ایک چائے کی دکان کھولی جس سے سترہ روپے کچھ آنے منافع ہوا۔اس سے وہ اخراجات پورے کئے جو جلسہ پر سٹور کے لئے اشتہاروں کے لئے کئے تھے۔چنانچہ جلسہ پر سٹور کے لئے پانصد روپیہ جمع ہو گیا۔حضور نے میری تحریک پر چار حصص خریدے۔فی حصہ پانچ روپے قیمت تھی۔میں نے دس حصص خرید کئے۔اس طرح میں نے بہت سے حصص فروخت کئے اور حضور کی منظوری سے مندرجہ ذیل پانچ افراد پرمشتمل ایک کمیٹی سٹور کے انتظام کے لئے میں نے مقرر کی (۱) حضرت قاضی امیرحسین صاحب (۲) منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی (۳) شیخ نورالدین صاحب (۴) منشی نعمت اللہ صاحب کلرک بورڈنگ ہاؤس (۵) میں خود۔آپ کا بیان ہے کہ دوکاندار کی تلاش تھی۔کوئی دوکاندار اس امر پر راضی نہ ہوا کہ حساب کتاب با قاعدہ رکھے۔چوہدری حاکم دین صاحب سے میں نے درخواست دلائی جو اکیلی درخواست تھی اور منظور ہوگئی۔شیخ نور الدین صاحب کو مینجر مقرر کیا اور بعد میں چوہدری حاکم دین صاحب نے ان کو حصہ دار بنالیا۔دکان کا کام پانصد روپیہ کے سرمایہ سے شروع کیا گیا۔دو ماہ کے بعد دوکانداروں کی طرف سے مخالفت ہوئی۔مخالفت کا سرغنہ شیخ عبدالرحمن صاحب مصری (بعد ازاں مخرج اور بانی فتنہ ) تھا۔حضور نے فیصلہ فرمایا کہ سٹور صرف تھوک کا کام کرے پر چون کا نہ کرے اور ادھار نہ فروخت کرے۔میں نے اس خیال سے کہ مصری صاحب مخالفت کریں گے۔اور قاعدہ کی رُو سے جس کے حصص ایک سو روپیہ سے کم کے ہوں، ہمبر نہیں رہ سکتا اپنے حصص سوائے ایک کے فروخت کر دیئے۔میرا نام فہرست میں نہ پا کر حضور نے اپنی طرف سے مجھے ممبر بلکہ سیکرٹری بھی مقرر فرمایا۔میری غیر حاضری میں مصری صاحب نے جو مینجر مقرر ہوئے تھے بہت سا ایسا فضول سودا خرید لیا جو نقصان پر فروخت کرنا پڑا۔بہر حال چوہدری حاکم دین صاحب اور شیخ نور الدین صاحب کی محنت اور کوشش سے سٹور چل نکلا اس کا سرمایہ نوے ہزار روپیہ کے قریب پہنچ گیا۔اس کے ماتحت ایک دکان تھوک کی دود کا نہیں، پرچون کی، دیار کی لکڑی اور ایندھن کی دکان ، ایک بھٹہ اور آٹا پینے کا انجن جاری کیا گیا لیکن احمد یہ سٹور کا