اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 58 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 58

۵۸ حالت بتائی۔وہ میرے ساتھ گھر آئے تو دیکھا کہ لڑکا فوت ہو چکا تھا۔میں بیوی کو یہ کہہ کر کہ لڑکے کو سنبھالو۔خود باہر نکل آیا اور حضرت خلیفہ اول کے جنازہ میں شامل ہونے کے لئے چلا گیا جو سکول کی شمالی گراؤنڈ میں ہو رہا تھا۔نماز جنازہ کے بعد منشی محمد اسمعیل صاحب، آپ کے بھائی غلام قادر صاحب اور چوہدری حاکم دین صاحب کو ساتھ لے کر میں گھر چلا آیا اور ہم چاروں نے بچے کی نعش کو روڑی کے قبرستان میں لے جا کر دفن کیا۔دوسرے دن صبح میں مولوی محمد علی صاحب کے پاس گیا اور ان سے بیعت نہ کرنے کا سبب پوچھا۔انہوں نے کہا کہ میرا صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب کے عقائد کے ساتھ اختلاف ہے۔میں نے پوچھا وہ اختلاف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ غیر احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں اور میں ان کو مسلمان سمجھتا ہوں۔میں نے پوچھا کہ یہ بات آپ کی بیعت میں کس طرح روک ہو سکتی ہے۔انہوں نے فرمایا کہ میں مصنف ہوں اور مجھے کہیں نہ کہیں اپنے عقائد کا اظہار کرنا پڑتا ہے میں نے پوچھا اس کے سوا اور کوئی اختلاف؟ کہنے لگے اور کچھ نہیں۔میں واپس چلا آیا اور منشی صاحب اور بھائی غلام قادر صاحب کو ساتھ لے کر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لئے آیا۔راستہ میں حضرت عرفانی صاحب ملے۔وہ بھی ہمارے ساتھ ہو گئے۔حضور کے مکان پر پہنچ کر ہم نے حضور کو اپنے آنے کی اطلاع کی۔خادمہ نے کہا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں۔میں نے کہا کہ ہم ایک ضروری کام کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔تم حضور کو جگا دو۔اس نے آ کر بتایا کہ حضور کی طبیعت خراب ہے میں نے کہا کہ پردہ کرا دو اور ہمیں حضور کے پاس لے چلو۔اس نے واپس آکر ہمیں ایک کمرہ میں بٹھلا دیا اور تھوڑی دیر کے بعد حضور خود تشریف لے آئے۔میں نے اپنے بچے کی وفات کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ ہمیں کیوں اطلاع نہ دی۔ہم بھی جنازہ میں شامل ہوتے۔میں نے عرض کی کہ حضرت خلیفہ اول کے جنازہ مبارک کے مقابل میں ایک بچے کا جنازہ کیا اہمیت رکھتا ہے۔اس لئے میں نے کسی دوست کو اطلاع نہیں دی تھی اور عرض کیا کہ میں نے اس وقت تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا غیر احمدی کافر ہیں یا مسلمان کیونکہ اس مسئلہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ میرے سامنے نہیں آیا۔کیا اس صورت میں میں آپ کی بیعت کر سکتا ہوں۔فرمایا کہ اس مسئلہ سے یا