اصحاب احمد (جلد 8) — Page 57
۵۷ میں آپ کی کوٹھی پر گیا۔آپ کی بیٹھک کا کمرہ آدمیوں سے بھر پور تھا۔مولوی محمد علی صاحب نے بیٹھے ہوئے ہی گفتگو شروع کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ فی الحال بیعت کسی کی نہیں کرنی چاہئے۔حضرت خلیفہ اول کو دفنانے کے بعد جماعت کے بڑے بڑے آدمیوں کو جمع کیا جائے گا۔اور جو مشورہ قرار پائے گا اس پر عمل کیا جائے گا کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔صرف میں نے یہ کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔خلیفہ فورا چنا جانا چاہئے۔اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے کہا کہ ہماری جماعت میں خلافت کے لائق صرف تین آدمی ہیں۔”میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی ، مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری اور مولوی محمد علی صاحب“۔میں نے کہا کہ مولوی محمد علی صاحب بہتر ہیں مگر مولوی محمد علی صاحب نے بہت حقارت آمیز لفظوں میں اس کا انکار کیا اور کسی نے کوئی بات نہ کی اور مجلس برخواست ہوئی۔جب میں بورڈنگ میں واپس آیا تو اکبر شاہ خاں صاحب نجیب آبادی مجھے ملے وہ بھی اس مجلس سے واپس آرہے تھے۔میں نے ذکر کیا کہ اگر خلیفہ مقرر نہ کیا جائے تو بہت فساد ہوگا۔مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور اپنے کمرہ میں چلے گئے۔میں پھر مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر واپس چلا گیا۔وہاں اس وقت مولوی صدرالدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کو تار لکھ رہے تھے۔میں نے پھر بڑے زور سے کہا کہ خلیفہ ضرور چلنا چاہئے۔ورنہ بہت فساد ہوگا۔مگر میری طرف کسی نے توجہ نہ کی اور میں واپس اپنے مکان پر چلا آیا۔میرا ایک چھوٹا لڑکا فضل الہی نام چند روز سے سخت بیمار تھا۔اس رات اس کو سخت تکلیف رہی۔دوسرے دن صبح کو ایک لڑکا مجھے ایک ٹریکٹ دے گیا۔جو مولوی محمد علی صاحب نے لکھا ہوا تھا۔اس کا مضمون صرف یہی تھا کہ فی الحال کسی کی بیعت کرنی ضروری نہیں۔حضرت خلیفہ اول کے دفنانے کے بعد دیکھا جائے گا۔مگر اس کے دلائل بہت کمزور تھے۔اپنے لڑکے کے سخت بیمار ہونے کی وجہ سے میں تمام دن باہر نہیں گیا تھا۔عصر کے قریب میرے لڑکے کی حالت بہت خراب ہو گئی تھی۔میں بورڈنگ سے منشی محمد اسمعیل صاحب سیالکوٹی کو بلانے کے لئے گیا۔وہ اس وقت بورڈنگ کے شمالی کمرہ میں کچھ اور لوگوں کے ساتھ کھڑے مسجد نور کی طرف دیکھ رہے تھے۔جہاں لوگ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی بیعت کر رہے تھے۔میں نے ان کو اپنے لڑکے کی