اصحاب احمد (جلد 8) — Page 31
۳۱ یہ دعا کی اور پر چہ سُنانا شروع کیا تو تمام حاضرین یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ یہ وہی پرانی باتیں ہیں جو سنی ہوئی ہیں۔اور صرف مولانا راجیکی صاحب مع دو اور احباب کے رہ گئے اور مولوی مذکور نے پر چہ سُنانا بند کر دیا کہ اب کس کو سُناؤں۔حضرت مولوی صاحب نے اس دعا کی طرف توجہ دلا کر کہا کہ یہ آپ کے اقارب اور دوست اور ہم مذہب تھے اور میں دوسری جگہ کا آدمی ہوں۔انہوں نے میری باتیں توجہ سے سنیں اور تمہاری نہ سنیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی حضرت اقدس کی صداقت کا نشان دکھایا ہے۔وہ شرمندگی سے چھپ کر اپنے گاؤں چلا گیا اور آٹھ احباب نے بیعت کر لی۔اس طرح کی تائید ۱۹۱۲ء میں مباحثہ مونگھیر میں ہوئی۔جہاں حضرت خلیفہ اول کے حکم سے حضرات مولوی سرور شاہ صاحب ، میر قاسم علی صاحب ، حافظ روشن علی صاحب اور آر پہنچے۔غیر احمدیوں نے یہ سمجھ کر کہ احمدی عربی میں مباحثہ نہیں کر سکیں گے۔اصرار کیا کہ پہلا پر چہ احمدی مناظر عربی میں لکھے اور پھر مع ترجمہ پڑھے۔اس موقع پر قریب ڈیڑھ صد مخالف علماء جمع تھے۔فیصلہ ہوا کہ حضرت را جیکی صاحب مناظر ہوں۔مجمع پندرہ ہزار افراد پر مشتمل تھا۔دودو صدر فریقین کے اور ایک صدراعظم ہند و آنریری مجسٹریٹ تھے۔پولیس کے اعلیٰ افسر بھی موجود تھے۔مولانا راجیکی صاحب نے پرچہ مع ترجمہ لکھا اور سنانے کھڑے ہوئے تو محسوس کیا کہ کوئی چیز آسمان سے اتر کر آپ کے وجود اور حواس پر مسلط ہوگئی ہے۔گویا کہ روح القدس کی تحبی ہوئی۔اس وقت تائید الہی سے آواز اس قدر بلند ہو گئی کہ تمام حاضرین تک پہنچتی تھی اور خوش الحانی بھی پیدا ہو گئی۔یہ دیکھ کر کہ اس کا اثر ہو رہا ہے مخالفین بلکہ ان کے صدروں نے بار بار ٹوکنا اور شور مچانا شروع کیا۔بار بار صدراعظم نے ان کو روکا۔اسی اثنا میں آٹھ اچھے پڑھے لکھے جن میں بعض گریجویٹ بھی تھے پیج کی طرف بڑھے اور کہا کہ ابھی قبول احمدیت کا اعلان کرنا چاہتے ہیں۔ان کو ڈیرہ پر آنے کے لئے کہا گیا۔صدر اعظم نے جلسہ کی برخواستگی کا اعلان کر دیا کیونکہ دراصل مخالفین کے خلاف توقع حضرت مولوی صاحب نے پر چہ عربی میں لکھ کر سنانا شروع کیا تھا۔مقابل پر پروفیسر عربی کلکتہ کالج کا مناظر تھا اسے فکر ہوا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی تو سبکی ہوگی۔اور بھی کسی عالم کو مقابلہ کی جرأت نہ ہوئی۔مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کرسی پر چڑھ کر