اصحاب احمد (جلد 8) — Page 18
۱۸ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔معلوم ہوا کہ زائرین کی خاطر مسجد سے ملحقہ مکان حضرت میر حسام الدین صاحب کے برآمدہ کی چھت پر حضور تشریف لائیں گے۔یہ دوست وہاں پہنچے تو منتظمین لوگوں کے اثر دھام کی وجہ سے دروازہ بند کر چکے تھے۔جس سے پریشانی ہوئی۔مولوی صاحب نے برآمدہ کے ایک طرف کی دیوار دیکھی تو وہ بہت اونچی تھی۔آپ نے کہا کہ اب تو جذ بہ عشق کی پرواز ہی کام دے سکتی ہے۔چنانچہ آپ جست لگا کر دیوار پر چڑھ گئے جہاں بغیر سیڑھی کے چڑھنا ناممکن تھا اور آپ نے محترم چوہدری عبداللہ خاں صاحب بہلول پوری کو بھی کپڑا لٹکا کر اوپر کھینچ لیا۔اندر جہاں حضور نے تقریر کے لئے کھڑا ہونا تھا وہاں اپنی لوئی بچھا دی۔اس طرح آپ کی لوئی بھی متبرک ہو گئی۔اسی سفر سیالکوٹ میں حضور کی تقریر سے ایک روز قبل ابھی کھانے کی تیاری میں کافی وقت تھا منتظمین نے چاہا کہ کوئی عالم تقریر کریں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب کو کہا گیا۔آپ نے سورہ فاتحہ کے معارف بیان کئے۔تقریر کے بعد حضرت مولانا نورالدین صاحب نے خوش ہوکر فرمایا کہ میں تو سمجھتا تھا کہ نورالدین دنیا میں ایک ہی ہے۔مگر اب معلوم ہوا ہے کہ ہمارے مرزا نے تو کئی نورالدین پیدا کر دیئے ہیں۔مہر غلام محمد صاحب ساکن سعد اللہ پور ( گجرات ) کے سر اور رخسار کی رگوں پر عرصہ سے ایک بیماری کی وجہ سے ٹیس اٹھنے سے سخت تکلیف ہوتی تھی اور کافی علاج کے باوجود فائدہ نہیں ہوا تھا۔حضرت مولانا راجیکی صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے مہر صاحب کو ایک عریضہ لکھدیا۔جس کے آخر پر کچھ شعر لکھ دیئے جن میں ایک شعر یہ تھا :- نام غلام محمد میرا میں تیریاں وچ غلاماں بھر کے نظر کرم دی میں ول تکیں پاک اماماں ( یعنی میں غلام محمد آپ کا غلام ہوں۔اے پاک امام ! آپ میری طرف نگاہ کرم فرما ئیں ) حضور نے عند الملاقات یہ عریضہ پڑھ کر مولا نا راجیکی صاحب سے دریافت کیا کہ کیا یہ شعر آپ نے لکھے ہیں؟ عرض کیا کہ ہاں حضور میں نے ہی لکھے ہیں۔پھر حضور نے مہر صاحب