اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 17 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 17

۱۷ لئے گئے تو مولوی صاحب حاضر ہوئے۔حضور نے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا آپ کے پاس میری کتاب ”مواہب الرحمن“ ہے۔عرض کیا۔حضور نہیں۔تو حضور نے عنایت فرمائی۔پھر پوچھا۔کیا آپ کے پاس اعجاز احمدی ہے۔عرض کرنے پر کہ نہیں۔حضور نے یہ بھی عنایت فرمائی۔پھر پوچھا کیا آپ کے پاس «نسیم دعوت ہے۔عرض کرنے پر کہ نہیں۔حضور نے یہ بھی عنایت کی اور ساتھ ہی فرمایا کہ یہ کتابیں میں نے اپنے لئے جلد کروائی تھیں۔مگر اب آپ اپنے پاس رکھیں اور مطالعہ کریں اور دیگر کتب کے متعلق بھی کہہ دیتا ہوں کہ وہ بھی آپ کو مل جائیں گی۔چنانچہ حضور کے ارشاد پر وہ بھی مولوی صاحب کو مل گئیں۔ایک پنجابی نظم ” جھوک مہدی والی میں آپ نے حضرت اقدس کی صداقت کے دلائل اور اپنے جذبات عقیدت منظوم کئے تھے۔یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ بیسیوں دفعہ طبع ہوئی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور میں تشریف فرما تھے تو حضور کی خدمت میں مولوی صاحب کے برادر نسبتی میاں عبداللہ خان صاحب نے پڑھ کر سنائی۔حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اُسے سن کر پسند فرمایا۔جن دنوں حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید قادیان آئے۔ان ایام میں حضرت مولوی صاحب بھی قادیان میں تھے۔جس کمرہ میں مولوی صاحب مقیم تھے اسی میں حضرت شہید مرحوم کا قیام رہا۔سفر جہلم پر مولوی صاحب کو بھی ساتھ جانے کا موقع ملا۔حضرت شہید مرحوم کی واپس روانگی کے وقت کے متعلق حضرت مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کو بٹالہ کی سڑک کے موڑ تک الوداع کہنے کے لئے تشریف لے گئے۔مرحوم اس ملاقات کو آخری ملاقات سمجھتے ہوئے بے اختیار حضور کے قدموں پر گر پڑے اور حضور نے کمال شفقت اور محبت سے آپ کو اٹھایا اور تسلی آمیز کلمات فرمائے۔بنیاد منارة امسیح کے تعلق میں جب حضرت اقدس نے دعا فرمائی اس میں بھی حضرت مولوی صاحب کو شرکت کا موقع ملا تھا۔۱۹۰۴ء میں حضرت اقدس سیالکوٹ تشریف لے گئے تو ضلع گجرات سے چند اشخاص