اصحاب احمد (جلد 8)

by Other Authors

Page 14 of 185

اصحاب احمد (جلد 8) — Page 14

۱۴ ایک دفعہ آپ اپنے گاؤں میں سارا ماہِ رمضان معتکف رہے۔جس میں آپ کو بار بار مکاشفات ہوئے۔اعتکاف میں آپ نے ایک عربی قصیدہ لکھا۔جو ۱۹۰۵ء میں حضور کی خدمت میں بموجودگی حضرت مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ اوّل ) و حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سنایا۔حضور نے سُن کر فرمایا کہ یہ قصیدہ کوئی دوسوشعر کا ہوگا۔عرض کیا کہ حضور تین سو ☆ 9966 اشعار کا ہے اس قصیدہ کا ذکر الحکم مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۵ء میں ” کلمات طیبات ۳۰ ستمبر ۱۹۰۵ء قبل دو پہر میں یوں مرقوم ہے ”مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے اپنا بے نقطہ عربی قصیدہ 66 سنایا۔(مؤلف) بقیہ حاشیہ: - مقام پر ہوئی۔کس نے نماز پڑھائی اور کونسی کتاب حضور نے دلائی۔حالانکہ زندگی میں جن امور سے انقلاب رونما ہو۔ان کا بھول جانا سہل نہیں ہوتا۔لیکن اسی اور تر اسی سال کی عمر میں ایسا ہو جانا ایک طبعی امر ہے۔سو ہمیں آپ کے بیانات میں ایسے اجزاء کی جستجو ہوگی کہ جونسیان کے اثر سے پاک ہوں اور دیگر بیانات اور قرائن بھی اُن کے مصدق ہوں۔سو ایسے اجزاء چار ہیں :- ۱ - آپ بٹالہ عرس پرا اور بیع الثانی کو آئے۔اور وہاں سے قادیان پہلی بار آئے۔۲- اس پہلی زیارت قادیان کے وقت غالبا لیکھر ام قتل ہو چکا تھا۔پہلی ملاقات میں حضرت اقدس نے استخارہ کی تلقین کی۔۴۔واپس جا کر آپ نے قریباً چار ماہ استخارہ کیا اور رؤیا ہوئی۔جس کے بعد مولانا راجیکی صاحب وغیرہ کی رویائے صالحہ سے پر یقین ہوکر بیعت کی۔عرس پر آنا اور اس کی معین تاریخ اور پھر وہاں سے قادیان آنا اور حضور کا استخارہ کی تلقین فرمانا اور قریباً چار ماہ مولانا صاحب کا استخارہ کرنا اور رویا ہونا پھر احباب اور شاگردوں کی رؤیا سے یقین حاصل ہونا ایسے امور میں ضعف حافظہ کا اثر نہیں ہوتا۔جیسا کہ مکرم وینیس صاحب نے بیان کیا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے حلقہ میں لیکھرام کے متعلق اخبارات میں مضامین و اخبار کا علم تھا۔علاوہ ازیں لیکھرام کے متعلق پیشگوئی کا پورا ہونا مسلم اور ہندو ہر دو اقوام کے لئے