اصحاب احمد (جلد 7) — Page 87
87 صریح جواب چاہیے جس سے عوام کو فائدہ ہو جاوے اور اس بد بخت کو اپنی گستاخی کی سزا بھی ساتھ ہی ہو جاوے۔میں نے اسے جواب میں کہا کہ کیا آپ جیسا کوئی جوان اور نیک پنڈت اپنی بہن سے ہم بستر ہو سکتا ہے۔یا کم از کم ڈیڑھ سیر پختہ نجاست کھا سکتا ہے یا نہیں اس پر وہ بہت تلملایا۔میں نے کہا کہ بے شک پنڈت صاحب ہر دو کاموں پر قادر مطلق ہیں یعنی نامرد نہیں ہیں کہ نیوگ نہ کر سکیں اور ڈیڑھ سیر نجاست کی گنجائش لمبے چوڑے پیٹ میں نہ ہو۔پھر کیوں اور کس طرح کہا جاوے کہ ایسا جسیم پنڈت ان باتوں پر قادر مطلق نہیں۔پس جس طرح پنڈت صاحب کی شان سے یہ حماقت بعید از قیاس ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ جو تمام صفات کا ملہ سے موصوف اور تمام M عیوب سے منزہ اور بالا تر ہے اس لئے وہ ان افعال کی طرف رجوع نہیں کرتا جو اس کی صفات کا ملہ سے منافی اور (77) مخالف پڑے ہوئے ہیں (۶) قادیان کے آریوں پر اتمام حجت : قادیان کے آریوں سے بھی آپ نبرد آزما رہتے تھے ”میں مسلمان ہو گیا“ کی تالیف کے دوران میں آپ نے لالہ شرمیت جی کو جا پکڑا اور ان کو بتایا کہ حضرت مرزا صاحب ہر مقابلہ میں مظفر ومنصور ہوئے ہیں۔مثلاً حضرت مرزا صاحب صاحب اولا دو دولت ہونے کے علاوہ لاکھوں کے سردار ہیں مگر لیکھر ام کے گھر میں اُتو بول رہا ہے اگر آپ ان کو درست نہیں سمجھتے تو مرزا صاحب نے آپ کو اپنی پیشگوئیوں کے گواہ ٹھہرایا ہے اور تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ اگر لالہ شرمیت قسمیہ بیان شائع کریں کہ میں قادر کرتارکو حاضر و ناظر جان کر مشتہر کرتا ہوں کہ مرزا صاحب نے جن پیشگوئیوں کے پورا ہونے کی شہادت میں میرا نام لکھا ہے وہ محض جھوٹ ہے۔اگر میں حق پر نہیں تو اس جھوٹ کا وبال میرے پر اور میری آل اولاد پر پڑے۔آپ کی کامیابی حقانیت اسلام کو رڈ کرے گی۔لیکن نہ لالہ شرمیت اور نہ لالہ ملا وامل ایسی تحریر لکھنے پر آمادہ ہوئے۔(78) ماسٹر صاحب بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی۔بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی۔شیخ غلام احمد صاحب ( واعظ ) اور سردار فضل حق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجمعین وغیر ہم نومسلموں کی طرف سے ۱۹۰۳ء میں ایک اشتہار بعنوان ” قادیان اور آریہ سماج“ شائع کیا گیا تھا۔اس بارے میں ۲۱ جنوری ۱۹۰۳ء قبل از عشاء کے متعلق البدر کی ڈائری میں مرقوم ہے۔حضرت اقدس نے حسب دستور نماز مغرب ادا فرما کر مجلس فرمائی۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب نومسلم نے ایک مضمون ایک اشتہار کا حضرت اقدس کو پڑھ کر سنایا جو کہ ان تمام نو مسلموں کی طرف سے جو کہ حضرت اقدس کے دست مبارک پر مشرف بااسلام ہوئے ہندو اور آریہ کے سر بر آوردہ ممبروں کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔اس میں انہوں نے استدعا کی ہے کہ اگر ان کے نزدیک یہ نومسلم جماعت مذہب اسلام کے قبول کرنے میں غلطی پر ہے