اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 42 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 42

42 کے دفتر میں ماسٹر صاحب سے ملاقی ہوئے۔بھائی کے منہ سے یہ بات نکل گئی کہ اگر سعید نہیں جائے گا تو ہم بزور لے جائیں گے۔ماسٹر صاحب نے بھائی کو تو وہیں چھوڑا اور مجھے کلاس کے عقبی دروازے سے موضع پھیر و پیچی بھیج دیا اور بھائی کو دوروز گھر پر رکھ کر تبلیغ کر کے احمدیت کا قائل کر لیا اور میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ اب وہ تمہیں کیا لے جائیں گے خود شکار ہو گئے ہیں۔چنانچہ بھائی نے ماسٹر صاحب کا مجھ سے حسن سلوک دیکھا تو چپ کر کے واپس چلے گئے۔اس حسن سلوک کے باعث جب مجھے قادیان میں والد صاحب کی وفات کی خبر پہونچی تو اس کی تکلیف مجھے محسوس نہیں ہوئی۔آپ جب سکھوں کے متعلق ایک ٹریکٹ شائع ہونے پر گرفتار ہوئے تو آپ کی جدائی مجھ پر سخت شاق گذری۔آپ کی رہائی پر جماعت نے آپ کا استقبال کیا اور آپ کو ہار پہنائے۔تو گھر آکر آپ نے مجھے بھی ہار پہنائے۔اس شفقت کا جو اثر مجھ پر ہوا میں ہی جانتا ہوں۔آپ کو مجھ پر کتنا اعتبار تھا اس امر سے ظاہر ہے کہ گرفتاری سے قبل آپ نے اپنا کتب خانہ راتوں رات قادیان سے باہر محفوظ کر دیا تھا جس کا علم آپ کے علاوہ صرف مجھ کو اور بھینی کے نمبر دار کو تھا۔حکیم صاحب مزید سناتے ہیں کہ جب میں نے آپ کو مہر سنگھ سے عبدالرحمن بن کر عابد زاہد ، سادہ صداقت کا پتلا بنا دیکھا تو حضرت مسیح موعود کے اس ایک معجزے سے ہی میرا سارا خاندان احمدی ہو گیا۔ایک دفعہ وطن میں مولویوں نے ہم پر یلغار کی تو میرے بھائیوں نے جوا بھی احمدی نہ ہوئے تھے میری طرف سے تمام اعتراضات کے جواب دئے اور بار بار حلفاً کہا کہ ہم نے سعید کے استاد کو جو سکھوں سے مسلمان ہوا دیکھا ہے ان کو کیا ایک فرشتہ کو دیکھا ہے ایک کامل ولی کو دیکھا ہے۔قطب غوث ابدال اس کے آگے کیا ہیں ہم حیران ہیں کہ اگر حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا یہ معجزہ نہیں تو اس سے بڑا اور کیا معجزہ ہوگا۔مولوی باری باری اٹھتے اور الزام تراشتے لیکن میرے تینوں بھائی ان کے سامنے بار بار یہی زندہ معجزہ پیش کرتے اور عوام کو موت یاد دلا کرفتم دے کر پوچھتے کہ ماسٹر صاحب میں جو الیسا انقلاب رونما ہوا ہے اس بارہ میں خدا تعالیٰ کو کیا جواب دو گے۔اس وکالت کا یہ اثر ہوا کہ بھائیوں نے سوچا کہ ہم دوسروں کو تو یہ کہتے ہیں۔کہ تم خدا تعالیٰ کو کیا جواب دو گے تو ہم کیا جواب دیں گے لہذا ہمیں احمدیت قبول کر لینی چاہیے۔چنانچہ ماسوا ایک کے وہ سب احمدی ہو گئے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ نسلی پیروں اور مولویوں میں تو اسلام کا نام تک موجود نہیں اور ماسٹر صاحب اسلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے اور زندہ نمونہ تھے۔ایک بھائی جو احمدی نہیں ہوا وہ مولویوں سے کہتا کہ تم مجھ سے کیا بحث کرو گے میں قادیان پلٹ (Return) ہوں۔قادیان تو وہ مقام ہے جہاں سکھ جا کر بطور سکھ واپس نہیں آتا۔تم بھی اگر وہاں سے احمدی ہوئے بغیر واپس آجاؤ اور قادیان کا تو ایک مرغ بھی آجائے تو تم اس سے بحث نہ کر سکو گے۔ایک دفعہ میں نے اپنی آٹھ سال کی عمر کے تین خواب بیان کئے تو آپ نے قسم کھا کر کہا کہ تم مبلغ بنو گے