اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 39 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 39

39 موقر الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں اور شہر سے قریب مکانات حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اور ڈاکٹر نور بخش صاحب رضی اللہ عنہما ہیں اپریل ۱۹۲۱ء میں چوری ہوئی۔خاکسار کو یاد ہے کہ غالبا ۱۹۲۷ء میں حافظ روشن علی صاحب کے داماد محترم حافظ مبارک احمد صاحب کے مکان پر دارالفضل میں چوری ہوئی اور انہیں آئندہ کے لئے محلہ کے اندرونی حصہ میں منتقل ہونا پڑا۔حالانکہ اس وقت دار الفضل اور ساری قادیان کی آبادی نسبتاً پہلے سے بہت بڑھ چکی تھی۔اس سے سالہا سال پہلے اور بالکل ہی قلیل آبادی کے وقت کے ساکنین جو شہر کی آبادی سے بہت دور تھے ان کا دل گردہ قابل صد ستائش ہے نہ صرف یہ کہ ان کو ہر وقت چوکس رہنا پڑتا ہوگا بلکہ سفر پیش آنے کی صورت میں ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بہت دقت کا سامنا ہوتا ہوگا۔شاید ان ہی امور کے مد نظر بعض احباب نے تعجب کا اظہار کیا تھا کہ ماسٹر صاحب نے کتنی دور مکان بنا لیا ہے اس وقت اس محلے میں آپ ہی کا مکان سب سے پہلے بنا تھا اور سارا محلہ ابھی خالی تھا۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کا بیان ہے کہ ماسٹر صاحب کہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود فرما گئے ہیں کہ یہاں آبادی ہی آبادی ہو جائے گی۔تعلیم و تربیت: آپ نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص طور توجہ دی۔اپنی بڑی صاحبزادی مرحومہ کو قرآن مجید مع ترجمہ، احادیث مع ترجمہ اور بعض کتب حضرت مسیح موعود کے علاوہ ۱۹۱۸ء میں برما یو نیورسٹی سے مڈل کا امتحان پاس کروایا تھا۔۱۹۲۵ء میں حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں براہِ راست نگرانی میں جو مدرسہ جاری کیا تھا اس میں بھی مرحومہ پڑھتی رہیں۔آپ نو جوانوں کی تربیت کی طرف بھی متوجہ رہتے تھے۔ان میں اسلام اور احمدیت کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔سکول کی جماعتوں میں بھی وقت نکال کر وعظ و نصیحت کرتے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول میں صبح حاضری کے بعد دس منٹ وعظ ہوتا تھا۔چنانچہ سالہا سال تک آپ وعظ کرتے رہے۔آپ کا ایک مشہور وعظ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر یہ تعلق پیدا ہو جائے تو انسان کو کچھ فکر وغم نہیں ہو سکتا۔اکثر فرماتے من كان الله كان اللہ لہ جو اللہ تعالیٰ کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے کام کر دیتا ہے۔اخویم ڈاکٹر محمد رمضان صاحب ربوہ لکھتے ہیں: ” جب میں ۱۹۱۵ ء اور ۱۹۱۶ ء میں غیر احمدی ہونے کی حالت میں قادیان کے تعلیم الاسلام ہائی اسکول میں داخل تھا تو اس وقت حضرت ماسٹر صاحب سکول کے سٹاف میں تھے اور مجھے ان کو نزدیک سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔“