اصحاب احمد (جلد 7) — Page 16
16 ☆ مکتوب مورخه ۳۱ مارچ ۱۸۹۱ء میں تحریر فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن لڑکا بھی آپ کے انتظار میں مدت سے بیٹھا ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب منتظر ہیں۔آپ ضرور مطلع فرما دیں کہ آپ کب تک تشریف لاویں گے (12) شہر بھیرہ میں دسویں تک تعلیم : ۱۸۹۱ء میں یا اس سے اگلے سال حضرت مولوی نور الدین صاحب کی جموں والی ملازمت اختتام پذیر ہوگئی آپ ماسٹر صاحب کو بھی اپنے ہمراہ اپنے وطن بھیرہ لے گئے۔جہاں آپ حضرت حکیم فضل الدین صاحب کی نگرانی میں پانچویں کی بجائے چھٹی میں داخل ہوئے اس وقت تعلیمی سال کے چھ ماہ باقی تھے۔پانچ سال تک اسی شہر میں آپ نے تعلیم پا کر میٹرک کا امتحان پاس کیا۔مڈل میں آپ ضلع بھر میں اول نمبر پر کامیاب ہوئے۔اور چار روپے ماہوار وظیفہ حاصل کیا حالانکہ دیا رام طالب علم نے شرارت کر کے آپ کو نقصان پہنچانا چاہا۔لیکن ے جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے کے مصداق دیا رام نے آپ سے کتب عاریتاً لیں اور واپس نہ کیں لیکن آپ تو اول نمبر پر کامیاب ہوئے اور وہ سائنس کا پرچہ نہ دے سکا اور اس کے سات نمبر ماسٹر صاحب سے کم آئے۔مڈل پاس کر کے آپ نے حضرت حکیم غلام محمد صاحب امرتسری بعض دیگر افراد اور ترجمہ حضرت شاہ رفیع الدین کی مدد سے اڑ ہائی ماہ میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ لیا۔ان دنوں آپ کو کشتی اور ورزش کا شوق تھا۔ایک جوان مضبوط دھوبی سے آپ کی کشتی ہوئی اور ا تفاقا اس کا ٹخنہ ٹوٹ گیا۔حکیم فضل الدین صاحب نے اپنے علم کے مطابق حضرت مولوی نورالدین صاحب کو اطلاع دی کہ عبدالرحمن کھیل کود میں وقت ضائع کرتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہ تھی۔اس پر حضرت مولوی نورالدین صاحب نے آپ کے کھانے کا خرچ بند کر دیا۔سرکاری وظیفے میں سے اڑ ہائی روپے فیس کی ادائیگی کے بعد آپ کے پاس صرف ڈیڑھ روپیہ بچتا تھا جس میں سے نصف روپیہ سٹیشنری پر صرف ہو جاتا تھا اور بقیہ ایک روپے میں آپ دن رات میں صرف ایک وقت کھانا کھا کر گزراوقات کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کارساز ہے۔یوں ہوا کہ چند ماہ حضرت مولوی صاحب کی جموں والی ملازمت کے سال کے متعلق سیرۃ المہدی (حصہ اول۔روایت (۱۰۱) میں یہی امر ☆ مذکور ہے۔م در سی و یکے از ۳۱۳ صحابہ۔وفات ۱۹۱۰۔۴۔۷ بعمر ۷۵ سال مدفون بہشتی مقبرہ قادیان۔