اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 191 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 191

191 عبدالرحیم بزرگ تھے ان کو خدا تعالیٰ نے توجہ دلائی کہ گنو اس وقت کتنے آدمی موجود ہیں انہوں نے گن لئے۔پھر الہام ہوا کہ آج عصر کی نماز جس قدر لوگ تمہارے پیچھے پڑہیں گے سب جنتی ہوں گے۔ایک آدمی سے وہ خوش نہ تھے جب انہوں نے نماز پڑھنی شروع کی تو وہ آدمی موجود تھا۔جب نماز ختم کی تو دیکھا کہ وہ آدمی پیچھے نہیں ہے۔آدمی گنے تو پورے تھے۔پوچھا کہ ان میں کوئی اجنبی آدمی آ کر شامل ہوا ہے۔آخر ایک اجنبی آدمی پایا گیا اس سے پوچھا کہ تم کس طرح شامل ہو گئے اس نے کہا میں جارہا تھا اور میرا اوضو تھا۔جماعت کھڑی ہوئی دیکھی۔میں نے کہا کہ میں بھی شامل ہو جاؤں۔پھر وہ دوسرا آدمی آگیا اس سے پوچھا کہ تم کہاں چلے گئے تھے، اس نے کہا کہ میرا اوضو ٹوٹ گیا تھا اور میں وضو کرنے گیا تھا مجھے وہاں دیر ہوگئی اتنے میں نماز ختم ہوگئی یہ معاملہ ہمارے درس سے بھی کبھی کبھی ہوتا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے ہم نے آج ایک دعا کرنی ہے، وہ دعا بڑی لمبی ہے۔مگر سب دعا اس وقت نہیں کریں گے۔ہمارا دل چاہتا ہے کہ جس قدر لوگ اس وقت درس سن رہے ہیں اللہ تعالیٰ ایسا کرم کرے کہ اس دعا سے کوئی محروم نہ رہے۔خوب یا درکھو کہ اللہ ایک ہے اور وہ سب صفات کاملہ سے موصوف اور سب برائیوں سے منزہ ہے۔اس کا نام اللہ ہے رب ہے رحمن ہے رحیم ہے۔مالک یوم الدین ہے ان اسماء کاملہ سے وہ موسوم ہے عبادت کے لائق صرف وہی ہے۔بندگی صرف اسی کی چاہیے، اور ملائکہ پر ایمان لاویں۔وہ اللہ کی مخلوق ہیں وہ مومنوں کو نیک تحریکیں دیا کرتے ہیں ہم کو چاہیے کہ ان کی نیک تحریکوں کو مانا کریں۔شیاطین بدی کی تحریک کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم کو ان کے داؤ سے محفوظ رکھے۔اللہ کی کتاب پر ہمارا خاتمہ ہو نبی سب بچے ہیں۔جزا سزا کا معاملہ سچا ہے۔ہمیں اپنا مال خدا کی راہ میں لگانا چاہیے۔ہمیں چاہیے کہ نمازیں پڑھیں۔روزے رکھیں بدیوں سے بچتے رہیں، دین کے خادم ہوں اللہ کی تعظیم میں ہم چست ہوں اور اس کی مخلوق کا اکرام کرنے اور بھلائی کرنے میں چست ہوں ہم کسی کے ساتھ عداوت کر کے گمراہ نہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ تم کو توفیق دے کہ اللہ کی باتیں اور اس کے دین کو دنیاوی لالچ سے خراب نہ کر اور اللہ تعالی پرتوکل کرو۔میرا وہ مطلب حاصل ہو گیا ہے الحمد للہ کہ راقم الحروف حسن اتفاق سے اس میں شامل تھا۔اللہ تعالیٰ عاجز کے حق میں بھی حضرت خلیفہ اسیح کی دعا کو منظور فرمائے آمین۔(26) وفات و تدفین آپ اکثر یہی دعا فرمایا کرتے تھے اور عملاً یہی طریق رکھا ہوا تھا کہ بغیر اشد ضرورت کے کسی کو کوئی کام نہیں کہتے تھے بلکہ خود ہی سرانجام دے لیتے تھے۔حتی کہ اپنے بچوں سے کوئی خدمت لینا بھی پسند نہیں کرتے تھے اور ان کی پیشکش پر بھی فرمایا کرتے تھے کہ جب تک ہاتھوں اور پاؤں میں طاقت ہے ان سے کام لینے دیں جب