اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 190 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 190

190 فرمائی۔اس وقت گاؤں کے کچھ ہندو اور آریہ بھی آکھڑے ہوئے تھے۔اس لئے حضور نے اپنی تقریر میں ان کو بھی تبلیغ فرمائی۔اس کے بعد فرمایا کہ اب ہماری حالت الہام کی طرف منتقل ہونے لگی ہے اس لئے دو اصحاب کا غذ اور قلم دوات لے کر بیٹھ جائیں اور جو کچھ ہم بولتے جائیں وہ لکھتے جائیں۔اگر کوئی لفظ پوچھنا ہو تواسی وقت پوچھ لیں پھر نہیں بتایا جا سکے گا۔چنانچہ حضرت اقدس نے عربی زبان میں فصیح و بلیغ تقریر کرنی شروع کر دی اور حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب لکھنے لگ گئے ، اور جہاں کہیں کسی لفظ کا اشتباہ ہوتا تھا ہرا کر پوچھ لیتے تھے۔اور حضرت اقدس انہیں بتلا کر پھر آگے اصل مضمون بیان کرنا شروع کر دیتے تھے۔قاضی صاحب کا بیان ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب کو زیادہ الفاظ پوچھنے پڑتے تھے اور مولوی نورالدین صاحب کو ان کی نسبت کم الفاظ دریافت کرنے کی ضرورت پڑتی۔لیکن باوجود اس قدر علم وفضل کے بعض ایسے الفاظ بھی انہوں نے دریافت کئے کہ مثلاً یہاں س ہے یا ص۔زہے یاظ وغیرہ وغیرہ لیکن حضرت اقدس اس طرح آسانی کے ساتھ بتاتے جاتے تھے کہ گویا حضور کے سامنے لکھا ہوا موجود ہے، اور حضور اس کو پڑھتے جارہے ہیں۔حضور کا چہرہ اس وقت نہایت تاباں و درخشاں تھا اور جلال آگیا تھا وہ بیماری کا ضعف اور رنگ کی زردی دور ہو گئی تھی جب خطبہ ختم ہوا تو حضور اس طرح بیٹھے کہ جیسے ایک کمزور اور ضعیف انسان تھک کر بیٹھتا ہے اور حضور کے جسم کو دبانا شروع کیا گیا۔حضور کی وہ حالت ربودگی اور بے خودی کا رنگ رکھتی تھی اور حضوڑ بے اختیار ہوکر بول رہے تھے۔یہاں تک کہ حضور نے خاتمہ تقریر کے بعد اس لکھی ہوئی تقریر کو ملاحظہ کے واسطے طلب فرمایا اور نہایت خوشی سے اس کو دوبارہ پڑھا اور اس کو خوشخط لکھوانے اور کوشش سے چھپوانے کے واسطے انتظام فرمایا۔چنانچہ غالبًا صفحہ ۳۸ تک کا حصہ مطبوعہ خطبہ میں وہی ہے جو اس وقت حضرت اقدس نے کھڑے ہو کر بصورتِ الہام فرمایا اور اما بعد سے آگے کا حصہ تصنیف بعد میں تحریر فرمایا۔(25) ایک خاص برکت کا حصول آپ نے حضرت خلیفہ اصبح اول کے ملفوظات قلمبند کر کے بدر میں شائع کئے جو ایک خاص موقع سے متعلق تھے اور وہ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔مؤرخہ مارچ ۱۹۱۲ء نماز مغرب کے بعد حسب معمول صاحبزادہ حضرت خلیفہ المسیح میاں عبدالحی صاحب قرآن شریف کا سبق پڑھ رہے تھے اور ایک کثیر تعداد دیگر طالب علموں کی بھی موجود تھی جو کہ روزانہ درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔اثنائے درس میں میاں شریف احمد صاحب صاحبزادہ خورد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کسی ضرورت کے واسطے باہر جانے لگے تو حضرت خلیفہ اسیح نے فرمایا کہ جلدی واپس آنا پھر فرمایا ایک شاہ