اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 7 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 7

7 اور تفرقہ کے احساس سے کلیجہ منہ کو آتا تھا اور دل پر طرح طرح کے خیالات مستولی تھے جن کو میں الفاظ کا جامہ پہنانے سے عاجز ہوں ہاں اتنا لکھنا ضروری ہے کہ بظاہر تمام دنیوی امیدوں کو خاک میں ملاتا تھا اور آنکھوں سے لگا تار آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی، اور دل میں غم واندوہ کی گھٹا چھائی ہوئی تھی اور میں اپنے تئیں خستہ حال اور بے کس مظلوم کی طرح دیکھتا تھا۔مگر زبان یا دل پر کسی کی شکایت نہ تھی کبھی ہجرت کرنے کی امید میں اور ثمرات دل میں جرات پیدا کرتے تھے۔گاہے گھر والوں کی محبت بھری نگاہیں اور سفر و حضر کی تکالیف کلیجہ کو ہلا دیتی تھیں۔اور والدہ ماجدہ جو ہم چار بھائیوں میں سے بڑھ کر مجھے خصوصیت کے ساتھ محبت اور پیار کرتی تھیں کیونکہ ان میں سے صرف میں ہی تعلیم پاتا تھا، ان کی مصیبت اور رنج کو میں تصور میں نہ لاسکتا تھا جو عنقریب میری عدم موجودگی میں ان پر آنے والا تھا۔دل میں خیال آیا کہ یہ لوگ جو آج اس قدر محبت کرتے ہیں کہ مجھ کو ان سے کوئی بھی عزیز اور پیارا معلوم نہیں ہوتا۔لیکن کچھ عرصے کے بعد ان سے بڑھ کر میرا کوئی دشمن اور مخالف نہ ہوگا۔غرض جب میں باہر نظر ڈالتا تھا تو قدم باہر پڑتے تھے اور جب میں گھر کی طرف دیکھتا تھا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے اور میرا ان سے الگ ہونا در حقیقت موت کے برابر تھا۔قصہ کوتاہ جو حالت مجھ پر اس وقت گذری اس کی کیفیت وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے ایسی مفارقت کا تجربہ کیا ہے اور وہ مصیبت اور افسوس جو والدہ صاحبہ کو میرے لئے برداشت کرنا پڑا صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس کا کوئی بچہ یوں ہی گرگ وشیر کا شکار ہو گیا ہو یا کسی اور دردناک حالت میں مبتلا ہو کر راہی عالم بقا ہو گیا ہو۔پس اس دردناک ماجرا کو زیادہ طول دینا ٹھیک نہیں کیوں کہ ممکن ہے کہ بہتوں کے دل دیکھیں اور بہتوں کی آنکھیں پُر آب ہوں۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ جو چودہ سالہ بچہ اپنے بڑے کنبہ سے جبراً الگ کیا جاتا ہے۔اس پر اور اس کے والدین کے دل پر کیا کیا صدمے گذرے ہوں گے اور کب تک انہوں نے رورو کر راتیں گذاری ہوں گی مگر آخر کار خدا کے فضل وکرم نے میری ایسی دستگیری کی کہ میں نے ان سب کمندوں کو توڑا اور اپنے پیارے وطن اور خولیش و عزیز کو اپنے زعم میں ہمیشہ کے لئے زندہ درگور کیا۔وہ بے چارے اس سرگذشت سے بکلی بے خبر تھے اور نہ جانتے تھے کہ میں ان کے لئے رونے اور پیٹنے کا سامان تیار کر رہا ہوں اور میں خوب محسوس کرتا تھا کہ یہ لوگ عنقریب میری نسبت ایک دردانگیز حالت میں مبتلا ہو جاویں گے اور مجھے اپنے خیال میں مردہ سمجھ کر تمام خاندان کے مردوزن نوحہ میں مصروف ہو جاویں گے اور سال تک پُر درد مصیبت میں گرفتار رہیں گے۔قصہ کوتاہ بڑے زور اور جبر سے اپنے دلی جوشوں اور محبتوں کود با یا اور کلیجہ کو تھاما اور گھر سے (والدہ صاحبہ سے) کچھ زادراہ لے کر روانہ ہوا اور گھر والوں کو کہہ دیا کہ میں کچھ کتب خریدنے کو جالندھر جاتا ہوں۔انہوں نے حسب معمول اجازت دی۔پھر میں وہاں سے روانہ ہو کر ( جالندھر گیا اور والد صاحب اور بھائیوں سے رخصت ہو کر پیدل ) بمقام کرتار پور آیا پھر دوسرے روز پا پیادہ چل کر