اصحاب احمد (جلد 7) — Page 115
115 ہوتی ہیں وہ آپ کی تالیف کردہ نہیں ہیں۔کوئی اور عرب پوشیدہ ہیں جو حضور کو لکھ کر دیتے ہیں اگر یہ عربی تصانیف واقعہ میں آپ ہی کی لکھی ہوئی ہیں تو میرے رو برو تھوڑی عبارت لکھ کر دکھا ئیں میں آپ کا مرید ہو جاؤں گا۔حضور نے فرمایا کہ میں اذن الہی کے بغیر ایسا نہیں کر سکتا۔ممکن ہے کہ میرا ہاتھ شل ہو جائے۔آپ یہاں چند روز اور ٹھہریں آپ کو خود پتہ لگ جائے گا کہ عربی تصانیف کا مصنف کون ہے (چنانچہ موصوف نے کچھ عرصہ قادیان میں قیام رکھا ) عرب صاحب نے عربی میں دو تین سوالات لکھ کر اندر حضور کی خدمت میں ارسال کئے ان کا جواب صفحہ دو دو صفحہ کا اور نہایت فصیح و بلیغ (عربی) عبارت میں لکھا ہوا آیا تب عرب صاحب حضور کے ہاتھ پر تو بہ کر کے بیعت میں شامل ہو گئے۔(۳۵)۱۹۰۶ء کے قریب شیخ عبدالرشید صاحب سود اگر چرم بٹالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے باپ نے مجھے عاق کر دیا ہے یا کر دینے والا ہے جس سے میں محروم الارث ہو جاؤں گا۔حضور نے شیخ صاحب موصوف کی دل جوئی کرتے ہوئے فرمایا کہ گھبراؤمت۔مجھے دعا کے لئے یاد (117) دلاتے رہو۔خدا بہتر سامان کر دے گا۔چنانچہ ہفتہ عشرہ کے بعد بٹالہ سے خبر آئی کہ شیخ صاحب کا باپ مر گیا ہے۔قلمی روایات میں ماسٹر صاحب لکھتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ میں دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو گزند رض اور نقصان سے محفوظ رکھے گا۔اور یہ کہ ساتویں روز ان کے والد کے فوت ہونے کی خبر آئی۔اس پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے فرمایا۔شیخ صاحب! باپ کو مروا کر ہی سانس لیا (*) (۳۶) جب میں مڈل پاس کر کے ۱۸۹۴ء میں قادیان آیا تو اس زمانہ میں مہمان بہت ہی کم آتے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم جنگل میں ہیں۔۱۸۹۶ء کے قریب حضور اقدس کو الہام ہوا کہ قَدِ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ (118) یعنی مومنوں کی آزمائش ہوگی تو حضور نے فرمایا کہ کوئی ابتلا آنے والا ہے (چنانچہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جو مقدمہ اقدام قتل کا حضرت اقدس پر دائر کر دیا اس سے یہ الہام پورا ہوا) اقدام قتل کا مقدمہ بڑا سنگین تھا۔محمد بخش انسپکٹر پولیس سخت مخالف تھے اور عبدالحمید کو ( جسے پادریوں نے ورغلا کر یہ بیان دلا دیا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے مجھے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا) دن رات پختہ کرتے رہتے تھے۔مولوی محمد حسین بٹالوی اور لاہور کے دیگر مخالف علماء فریق مخالف کی ہر رنگ میں امداد کرتے تھے۔ایک دفعہ کیپٹن ڈگلس ڈپٹی کمشنر ( گورداسپور ) بٹالہ کے ریلوے پلیٹ شیخ صاحب کی روایت مندرجہ الحکم ۲۶ مئی ۱۹۳۵ء سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ والد صاحب کی علالت میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کو قادیان سے لے جانے کے لئے کوشاں تھے۔گویا مرض الموت میں ان کی خدمت کا موقعہ ملا معلوم ہوتا ہے کہ دعا کے لئے کچھ روز ٹھہر کر چلے گئے ہوں گے۔اور پھر کسی وقت آنے پر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے یہ بات کہی ہوگی (مؤلف)