اصحاب احمد (جلد 7) — Page 4
4 اصول کی پڑتال کی جاوے بعد ازاں اس پر رائے زنی یا نکتہ چینی کرنا بجا ہے ورنہ غلط فیصلہ کر کے اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے۔پس ان کی صحبت سے میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ میں اسلام اور دیگر مذاہب کو ایک ہی نظر سے دیکھنے لگا اور کسی خاص مذہب کو کسی دوسرے پر یونہی ترجیح نہ دیتا تھا۔مگر حق جوئی کا اتنا جوش اور اشتیاق موجزن تھا کہ بیان سے باہر ہے آخر کار خیال آیا کہ گھر سے ہجرت کر جاویں اور دنیا میں آزادانہ طور سے بطور خود دیکھیں کہ ہر ایک مذہب کس پایہ اور خوبی سے پر ہے۔مگر ساتھ ہی خورد سالی بے سامانی اور ناتجربہ کاری کے خطرات دھمکیاں دے رہے تھے کہ باہر جا کر میں کہاں بود و باش رکھوں گا اور مصائب و شدائد میں میرا کون معین و مددگار ہوگا۔اور دکھ درد کے وقت کون میراغم غلط کرے گا ؟ اور والدین اور بھائی بہنوں کی مفارقت کس طرح برداشت کر سکوں گا؟ غرض اس طرح کے وجوہات پیش کر کے دل کو بہت سمجھایا کہ چند سال کے بعد اس معاملہ میں دست درازی کرنی چاہیے۔ابھی وقت نہیں لیکن میں بار بار بے اختیار ہو جاتا تھا اور دل پر یہی خیال غالب رہتا تھا کہ اگر کل موت آجاوے تو پھر کون جواب دہ ہوگا۔آخر کار میں نے شرم و حیا سے کام لے کر اپنے ایک مسلمان استاد (میاں روشن دین) سے اس ہجرت کا اظہار کیا۔انہوں نے زور اور تاکید سے یہی سمجھایا کہ ابھی وہ وقت اور عمر نہیں کہ ایسے کام کا اقدام کیا جاوے ( بڑی عمر میں تلاش مذہب کی طرف توجہ کرنا ) مگر پھر دل میں یہی خیال پیدا ہوا کہ عمر کا اعتبار نہیں اور ان کے مشورے پر عمل درآمد کرنا ٹھیک نہیں کیوں کہ انہیں اپنی ملازمت کے متعلق خطرہ پیدا ہو گیا تھا اور میرے رشتہ داروں کی طرف سے ایذارسانی اور مقدمات وغیرہ کا خوف دامن گیر تھا۔“ قلمی مسودہ میں مندرج ہے کہ آپ نے ایک دفعہ استاد صاحب سے عرض کیا کہ آپ لوگ پانچ وقت عبادت الہی کرتے ہیں اگر ایک نماز کے پانچ نمبر بھی لیتے ہوں تو ایک دن میں پانچ وقت نماز ادا کر کے ۲۵ نمبر آپ لوگوں کے اعمال نامے میں درج ہو جاتے ہیں مگر ہمارے مذہب سکھ دھرم میں عبادت کا ایسا با ضابطہ انتظام نہیں۔“ اس وقت آپ یہ سمجھ چکے تھے کہ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے روحانی تعلیم و تربیت کا باقاعدہ انتظام کر رکھا ہے۔اور وہ ہر زمانہ میں کسی نہ کسی بزرگ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دینے کے لئے کھڑا کرتا ہے اس لئے اسلام قبول کر لینا مجھ پر واجب ہے اگر میں مشرف با سلام نہ ہوا تو بروز محشر اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جواب دوں گا۔“ "حاصل کلام یہ کہ اسی کش مکش میں خاکسار نے گھر سے ہجرت کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔چنانچہ ان ہی دنوں میں جب میں ان خیالات میں محود مستغرق تھا ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں کوٹھے پر چڑھ کر بہت رویا اور بغیر بستر کے وہیں چھت پر لیٹ گیا اور دل سے مخاطب ہو کر کہا کہ اپنے پیارے والدین اور بھائی بہنوں کی جدائی اور تفرقہ سے جس قدر باہر جا کر رونا اور افسوس کرنا ہے وہ ماتم آج یہیں کر لو اور اپنے لئے ان سب کو زندہ در گور گردان کر لو