اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 90 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 90

90 حافظ ابراہیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : حضور سیر کو جارہے تھے، اس وقت آپ نے فرمایا کہ مجھے آج الہام ہوا ہے۔" الْحَرَبُ مُهَيَّجَةٌ ) جس کے معنی ہیں کہ لڑائی کے لئے تیاری کرو۔حضور جب سیر سے واپس تشریف لائے اور بعد میں ظہر کی نماز کے لئے آئے تو اس وقت آپ کے ہاتھ میں اشتہار تھا آپ نے فرمایا کہ یہ اشتہار بھی آریوں کی طرف سے آیا ہے جس میں بہت گالیاں لکھی ہوئی ہیں اور اس میں یہ بات بھی لکھی ہوئی تھی کہ اگر ہم سے مناظرہ و مباحثہ نہ کرو گے تو ہم سمجھیں گے کہ تمہارا مذہب جھوٹا ہے اور تمہارے پاس کوئی سچائی نہیں ہے۔اکثر دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ حضور صبح کو کوئی الہام سناتے تھے اور معاً اس کا ظہور ہو جاتا تھا۔(83) نومسلموں کے اشتہار کے جواب میں جو اشتہار آریہ سماج کی طرف سے شائع ہوا وہ حضور کی معرکتہ الآرا کتاب و نیم دعوت (مطبوعہ ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء) کی تالیف کا باعث بنا۔حضور تحریر فرماتے ہیں: آج آریہ سماج قادیان کی طرف سے میری نظر سے ایک اشتہار گزرا جس پر سات فروری ۱۹۰۳ء تاریخ لکھی ہے جس کا عنوان ہے " کا دیانی پوپ کے چیلوں کی ایک ڈینگ کا جواب‘ اس اشتہار میں ہمارے سید و مولی جناب رسول اللہ ﷺ کی نسبت اور میری نسبت اور میرے معزز احباب جماعت کی نسبت اس قدر سخت الفاظ اور گالیاں استعمال کی ہیں کہ بظاہر یہی دل چاہتا تھا کہ ایسے لوگوں کو مخاطب نہ کیا جاوے۔مگر خدا تعالیٰ نے اپنی وحی خاص سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس تحریر کا جواب لکھ اور میں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں۔۔سو میں اپنے خدا سے قوت پا کر اٹھا اور اس کی روح کی تائید سے میں نے اس رسالہ کو لکھا۔۔مگر اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحنا کہتا ہوں کہ جو کچھ اس اشتہار کے لکھنے والوں اور ان کی جماعت نے محض دل دکھانے اور تو ہین کی نیست سے ہمارے نبی کریم علیہ کی نسبت اعتراضات کے پیرایہ میں سخت الفاظ لکھے ہیں یا میری نسبت مال خور اور ٹھگ اور کاذب اور نمک حرام کے لفظ کو استعمال میں لائے ہیں۔یا جو خود میری جماعت کی نسبت سئو راور کتے اور مردار خور اور گدھے اور بندر وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور ملیچھ ان کا نام رکھا ہے۔ان تمام دکھ دینے والے الفاظ پر وہ صبر کریں اور میں اس جوش اور اشتعال طبع کو خوب جانتا ہوں کہ جو انسان کو اس حالت میں پیدا ہوتا ہے کہ جب کہ نہ صرف اس کو گالیاں دی جاتی ہیں بلکہ اس کے رسول اور پیشوا اور امام کو تو ہین اور تحقیر کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے اور سخت اور غضب پیدا کرنے والے الفاظ سنائے جاتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب سے سہو ہوا ہے۔کیونکہ کا پی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو حضور کے اپنے دست مبارک سے لکھی ہوئی ہے۔اس میں اس الہام کی تاریخ ۸ فروری ۱۹۰۳ء ہے اور بدر۱۳ فروری ۱۹۰۳ء میں یہ الہام ۹ فروری ۱۹۰۳ ء کے تحت درج ہے۔( تذکرہ جدید ایڈیشن ص۳۸۰) تاہم یہ ممکن ہے کہ حضور علیہ السلام کو یہ الہام دوبارہ ہوا ہو۔حضرت حافظ صاحب کا بیان کردہ ترجمہ بھی درست نہیں۔