اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 89 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 89

89 ایک سماج میں اس بارے میں قرار پایا کہ حضرت مرزا صاحب اسلام کی خوبیاں بیان کرنے میں سب پر فوقیت لے جائیں گے اور دسمبر ۱۸۹۶ء کے جلسہ (دھرم مہوتسو ) کا سماں پھر عود کر آئے گا۔ان کے وعظ نے جلسے کے ممبروں پر ایک عجیب ساحرانہ اثر پیدا کیا تھا۔یہاں تک کہ سب سامعین نے ان کی داد دی اور کسی نے ایک سو روپیہ انعام بھی دیا تھا اور لاہور کے ایک انگریزی اخبار نے بھی ان کے مضمون کی مدح سرائی کی اب پھر موقع دینا سماج اور ویدک دھرم کی عمارت کو اپنے ہاتھوں گرانے کے مترادف ہے۔ایسی تجویز کی جائے کہ بات بھی بنی رہے اور مرزا صاحب سبقت بھی نہ لے جائیں سو ایک نے تجویز پیش کی کہ اشتہار کا یہ جواب دیں کہ آریہ سماج مباحثے کے لئے نقارے کی چوٹ تیار ہے۔مرزا صاحب زبانی مباحثے پر رضا مند نہ ہوں گے۔اگر ہوئے بھی تو زبانی مباحثے کا اتنا برا اثر نہ پڑے گا۔ایک نو آریہ نے پہلے دو معیاروں کے مطابق مقابلہ کرنے پر آمادہ کرنا چاہا تو اسے کہا گیا کہ اگر اتفاق مرزا صاحب کے حصے کے مریض شفایاب ہو گئے تو سماج کی روسیا ہی ہو گی۔تم ناواقف ہو ،اس پر نو آریہ سماج سے علیحدہ ہو گیا۔اس پر بھی بحث ہوئی کہ کوئی سرکردہ آریہ لیکھرام کی طرح مباہلہ کرے۔لیکن اس پر بھی انشراح نہ ہوا یہی طے ہوا کہ مباحثہ بلکہ زبانی مباحثے کی طرف مرزا صاحب کو بڑے زور شور سے بلایا جائے تا کہ پہلے دو معیاروں کا ذکر تک نہ آئے"۔) (80) ماسٹر صاحب کا اس بارہ میں بیان ہے کہ ۱۹۰۳ء کے قریب میں نے چند نو مسلموں کی طرف سے دستخط کروا کر ایک اشتہار شائع کیا جس کا عنوان قادیان اور آریہ سماج تھا۔اس اشتہار سے پنجاب میں شور پڑ گیا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا الْحَرْبُ مُهَيَّجَةٌ “ یعنی جنگ کو جوش دیا گیا ہے۔اس پر قادیان کے آریوں نے بھی جلسہ کیا۔اس کے جواب میں حضرت صاحب نے اپنی کتاب «نسیم دعوت تالیف فرمائی۔(81) ۸ فروری ۱۹۰۳ء کو الہام ہوا الْحَرُبُ مُهَيَّجَةٌ ، (82) ہوا تھا۔البدر ۱۳ فروری ۱۹۰۳ء میں مرقوم ہے۔( ترجمہ ) " جوش سے بھری ہوئی لڑائی (حضرت اقدس نے ) فرمایا کہ اس کا اشارہ یا تو مقدمہ کی شاخوں کی طرف معلوم ہوتا ہے یا آریہ سماج کو جو اشتہار نومسلموں نے دیا ہے اس سے جوش میں آکر وہ لوگ کچھ گندی گالیاں وغیرہ دیویں چنانچہ شام کو ایک اشتہار آریوں کی طرف سے نکل آیا جس میں ایسے گندے الفاظ تھے۔“