اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 75 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 75

75 نے کہ کہا کہ اگر تم یہ شہادت لکھ دو تو تم دونوں پاس ور نہ فیل ہو جاؤ گے یہ امر بھی الہام ہی ( کی طرح یقینی سمجھو۔اللہ تعالیٰ کا کرنا کیا ہوا کہ جب نتیجہ نکلا ہم سب کامیاب اور وہ دونوں۔فیل اس پر بعض غیر احمدی ہم جماعتوں نے شہادتیں تحریر کر دیں جو میرے پاس موجود ہیں۔اخویم مولوی عبدالرحیم صاحب عارف ( مبلغ نظارت مقامی تبلیغ پاکستان ) بیان کرتے ہیں کہ: ہماری جماعت میں ماسٹر صاحب پڑھا رہے تھے کہ ایک خط آنے پر آپ متفکر ہو گئے اور ٹہلنے لگے اور پھر ایک کھڑکی کی طرف منہ کر کے دعا کرنے لگے۔میرے دریافت کرنے پر فرمایا کہ پھر بتاؤں گا ایک مشکل ہے تم بھی دعا کرو چنانچہ چند گھنٹے بعد آپ نے مجھے دفتر میں بلایا۔ڈاکیہ ایک منی آرڈر لایا ہوا تھا فر مایا کہ عزیز بشیر احمد کا مونگ رسول سے خط آیا ہے کہ آپ نے خرچ نہیں بھیجا۔مجھے تکلیف ہے۔کہیں سے بھی روپیہ آنے یا ملنے کی امید نہ تھی۔میں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ ! تو رازق ہے۔بچہ پردیس میں ہے میرے پاس رقم نہیں۔تیرے پاس بے انتہا خزانے ہیں تو کوئی سامان کر دے چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ سامان کر دیا ہے۔آپ نے سردار بشیر احمد صاحب کو ۱۹۴۸ء میں تحریر کیا کہ رویا میں آپ کی والدہ کو سیاہ لباس میں ملبوس دیکھا اور وہ آپ کو چھت سے نیچے بلا رہی ہیں۔مگر آپ اترے نہیں۔کچھ صدقہ ضرور کر دیں سردار صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بارہ تیرہ دن بعد مجھے سرکاری حکم موصول ہوا کہ سرکاری بنگلہ خالی کر دوں تا کہ کسی دوسرے افسر کو دیا جائے۔یہ بنگلہ نہایت شاندار اور پرنسپل انجینئر نگ سکول کے بنگلے سے دوسرے نمبر پر تھا اور اس کے خالی کرنے پر میری خفت تھی۔چنانچہ میں اپنے موقف پر قائم رہا اور چھت سے نیچے نہ اترا اور اللہ تعالیٰ نے صدقہ اور دعا قبول فرمائی اور یہ معاملہ ٹل گیا۔سردار بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی جماعت میں دوم یا سوم رہتا تھا۔دسویں کا امتحان دیا تو ابا جان نے میری خاطر ایک لاکھ دفعہ استغفار کیا جس کی برکت سے میں اول درجہ پر کامیاب ہوا اور جو ہمیشہ اول آتا تھا وہ مجھ سے آٹھ نمبر کم لے کر دوم آیا۔اخویم حکیم محمد سعید صاحب مبلغ سری نگر سناتے ہیں کہ زیر تبلیغ اشخاص سے بحث میں شرط لگ جاتی اور حضرت ماسٹر صاحب دعائیں کرتے اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم پانے پر یقین کے ساتھ اعلان کرتے اور ڈاک خانے میں اس بارہ میں ایک کارڈ اپنے نام اور ایک کارڈ مخالف کے نام روانہ کرتے اس طرح اپنے نام کا خط ڈاک خانے کی مہر کے ساتھی مصدقہ ثبوت بن جاتا جو مخالفوں کے لئے مسکت ثابت ہوتا۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی ایک خطبہ میں ماسٹر صاحب کی قبولیت دعا کی شرط