اصحاب احمد (جلد 7) — Page 74
74 ریاضی کا پرچہ دکھایا گیا جسے میں نے پڑھ لیا۔مگر مجھے صرف پہلا سوال ہی یا د رہا۔جسے میں نے نوٹ کر لیا۔تین ہفتے کے بعد ہمارا سہ ماہی امتحان ہوا اور اس میں ریاضی کا پہلا سوال وہی تھا جو میں نے بتایا تھا۔یہ دیکھ کر یوسف وغیرہ دریائے حیرت میں ڈوب گئے۔ایک شخص عبدالحمید ایم اے سکنہ کٹرہ بھنگیاں امرتسر د ہر یہ تھا وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا قائل ہو گیا۔اس کی تحریر میرے پاس موجود ہے۔ایک شخص ممتاز علی نے کہا کہ یہ اتفاق ہو گیا کہ آپ کو پہلے سوال کا پتہ لگ گیا ہے۔میں نے کہا کہ آپ چالیس گریجویٹ ہیں اور مجھ سے لائق ترین۔تین ماہ بعد پھر امتحان ہوگا سارے مل کر میری طرح پہلاسوال بتادو۔وہ کہنے لگے کہ ہم چیلنج نہیں کر سکتے۔میں نے کہا کہ یہی تو معجزہ ہے جسے تم چالیس افراد نوے دن میں نہیں کر سکتے۔میں نے دو تین دن میں کر دکھایا۔اس پر سب طلباء نے کہا اگر کوئی اور ا مرغیب ظاہر ہو جاوے تو اتفاق والا ہمارا عذر لنگ بھی جاتا رہے میں نے کہا اچھا میں دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ کوئی اور امرغیب قبل از وقت بتا دے انہیں ایام میں مجھے الہام ہوا۔بچہ ہے بچہ ہے۔بچی نہیں ہے یعنی امسال ہمارے گھر اللہ تعالے لڑکا عطا فرمائے گا۔وہاں مکرم صوفی غلام محمد صاحب بی اے مرحوم ( بعده مبلغ ماریشس ) بھی ٹرینینگ لے رہے تھے۔یوسف وغیرہ نے بالائی طور پر ان کے ذریعہ قادیان سے پستہ منگوایا تو ان کی اہلیہ صاحبہ کا خط آیا کہ ماسٹر صاحب کے ہاں ابھی دو تین ماہ کی امیدواری ہے جب لڑکا پیدا ہوگا تو اطلاع دوں گی۔چنانچہ سالانہ امتحان اپریل ۱۹۰۹ء کے قریب اطلاع بھیجی چنانچہ یوسف بورڈ پر سے کارڈ لایا اور کہا کہ صوفی صاحب کی اہلیہ صاحبہ نے آپ کو دوہری مبارک باد دکھی ہے کہ لڑکا بھی پیدا ہوگیا اور پیشگوئی کا الہام بھی پورا ہو گیا۔اس پر میں نے جلیبیوں کی دعوت دے کر بتایا کہ اگر تم پندرہ سال گرجے یا مندر یا ٹھا کر دوارے میں پوجا پاٹ کرتے رہو اور وہاں سے کوئی جواب نہ آئے تو تم سمجھو کہ تم خدا کی عبادت نہیں کر رہے بلکہ مصنوعی خدا کی خود ساختہ تصویر ہے جس کی عبادت کرتے ہو وہ بت ہے بت پرستی چھوڑ دو۔اے مسٹر یوسف ! اگر تم پرنسپل کی کوٹھی پر جاؤ اور اسے سلام کرو تو وہ تمہیں سلام کا جواب نہ دیا کرے تو کیا پھر بھی تم اس کی کوٹھی پر سلام کرنے جایا کرو گے، اس نے کہا کہ ہر گز نہیں۔میں نے کہا کہ اگر تم لوگ زندہ خدا کی عبادت کرو تو وہ ارحم الراحمین ضرور جواب دے گا۔بعدا زاں میں نے یوسف مذکور اور مسٹر چیٹر جی عیسائیوں سے کہا کہ آپ لوگوں نے دو تین امور کے متعلق پیش گوئیاں پوری ہوتی دیکھی ہیں اس لئے اب حسب وعدہ مسلمان ہو جاؤ۔مگر وہ عذر کرتے رہے۔آخر میں نے کہا کہ کم از کم ان امور کی تحریری شہادت دے دو۔انہوں نے عذر کر کے اس سے بھی انکار کر دیا اس پر میں