اصحاب احمد (جلد 7) — Page 73
73 سے عہد کرو کہ صحت یاب ہو کر اپنے گاؤں کے ارد گرد تین میل تک تبلیغ کروں گا چنانچہ ان کے وعدہ کرنے پر آپ نے دعا کی اور وہ صحت یاب ہو کر سالہا سال تک زندہ رہے۔ایک احمدی مدرس کئی بار بی۔اے کے امتحان میں نا کام رہے۔ماسٹر صاحب نے کہا کہ جو تبلیغ کرے اللہ تعالیٰ اسے برکت دیتا ہے اور وہ کسی کا قرض اپنے او پر نہیں رکھتا۔آپ دس روپے کے تبلیغی پوسٹر چھپوا دیں۔چنانچہ آپ نے ان کی رقم سے پوسٹر شائع کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ امتحان میں کامیاب ہو گئے۔ماسٹر صاحب فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اگر تم فریضہ تبلیغ جاری رکھ تو تمہاری عمر کو ہم بڑھا (71) دیں گے چنانچہ آپ آخر دم تک آخری ماہ تک اشتہارات شائع کرتے رہے (1) دعاؤں میں انہماک آپ کی دعاؤں کی قبولیت تبلیغ میں اغیار کا ناطقہ بند کرنے میں مد ہوتی تھی آپ لکھتے ہیں : ۱۹۰۸ء میں جب میں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا تو میرے ساتھ ہند و مسلمان اور چار پانچ عیسائی بھی ایس اے۔وی کلاس میں ٹریننگ حاصل کرتے تھے۔ان عیسائیوں میں ایک پٹھان کا لڑکا یوسف جمال الدین بی اے ہیڈ ماسٹر مشن اسکول جالندھر بھی تھا، ان عیسائیوں نے مجھے عصرانہ پر مدعو کیا اور کہا کہ آپ نے اچھا کیا کہ سکھوں کا مذہب ترک کر کے اسلام اختیار کیا۔اب ایک قدم اور آگے بڑھاؤ اور عیسائی بن جاؤ۔ٹرینڈ ہو کر آپ کو مسلمانوں سے کیا تنخواہ ملے گی۔ہم تو جاتے ہی تین تین صد روپیہ تنخواہ پر متعین ہو جائیں گے۔مسلمانوں سے آپ کو ۵۰ - ۶۰ یا سو روپیہ ماہوار ملے گا۔میں نے کہا کہ میں زندہ خدا کا شائق ہوں۔اگر تم زندہ خدا سے میرا تعلق پیدا کر دو تو میں عیسائی ہو جاؤں گا۔یوسف جمال الدین نے پوچھا کہ زندہ خدا سے کیا مراد ہے۔میں نے کہا کہ انجیل میں لکھا ہے کہ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو کھولا جائے گا۔ڈھونڈ و تو خدا کو پالو گے۔اور قرآن مجید میں بھی لکھا ہے کہ بحالت اضطرار دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے اگر یہ نعمت عیسائیت میں دکھا دو تو میں عیسائی ہو جاؤں گا۔طلبا نے کہا کہ وید ، انجیل اور قرآن مجید کے بعد الہام و وحی کا دروازہ بند ہے۔اب الہام نہیں ہوسکتا۔میرے دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی سنتا اور دیکھتا تو ہے لیکن بولتا نہیں۔میں نے کہا جو ذات سنتی اور دیکھتی ہے وہ بول بھی سکتی ہے۔پہلے سوال کے متعلق میں نے کہا کہ ابھی اس مجلس میں مجھے الہام ہو گیا ہے کہ پہلے سوال بتا دیا جائے گا۔طلباء نے کہا کہ ہم نے تو الہام نہیں سنا۔میں نے کہا کہ تمہارا خون خراب ہو گیا ہے۔اسے قادیان میں درست کر الوتو تم کو بھی الہام کی آواز سنائی دے گی۔دوسرے تیسرے روز رات کو سونے کے لئے سرہانے پر سر رکھنے ہی لگا تھا کہ کشفی حالت میں مجھے