اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 67 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 67

دعوۃ و تبلیغ ہوا اور اس کی منظوری کا اعلان ہوا۔67 (59) آپ کا معمول تھا کہ قادیان کے گرد و نواح کے دیہات میں طلباء اور نو جوانوں کو لے جا کر ان سے تقریریں کراتے تا ان میں تبلیغ کا شغف اور تقریر کا ملکہ پیدا ہو۔چنانچہ احرار کی شورش کے ایام میں خاکسار اور اخویم چوہدری عبدالسلام صاحب ایم۔اے ( حال ربوہ ) کو بھی موضع بھینی وغیرہ لے جاتے رہے ہیں۔جس گاؤں میں آپ جاتے غیر مسلموں کے گھروں سے ان کی خیریت معلوم کرتے۔دیہات میں چونکہ بالعموم طبی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔اور معمولی علالت کو اپنی مصروفیتوں کے پیش نظر دیہاتی لوگ چنداں اہمیت نہیں دیتے۔خواہ بالآخر اس سے نا قابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو اس لئے ان کو مانوس کرنے کے لئے مثلاً آنکھوں میں ڈالنے والا محلول ( لوشن ) آپ ساتھ لے جاتے اور حسب ضرورت بچوں کی آنکھوں میں ڈالتے۔طبی ضروریات پوری کرنے والوں سے جیسا گہرا رابطہ پیدا ہوتا ہے ظاہر ہی ہے اور سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی اس بارہ میں کئی دفعہ تحریک فرما چکے ہیں بلکہ مبلغین کو بھی طب پڑھائی جاتی ہے۔دیہات میں ماسٹر صاحب نو جوانوں سے تقریر میں کراتے تاکہ ان کی ہچکچاہٹ دور ہو جائے اور تقریر کرنے کی مشق ہو جائے یہ بھی دیکھا ہے کہ آپ نے موٹے موٹے خط میں تبلیغی اشتہار طبع کرا کے گتوں پر انہیں چسپاں کر رکھا تھا۔بٹالہ۔امرتسر وغیرہ کے سفر پر جانے والوں کو تحریک کرتے کہ ایک گتا ہمراہ لے جاؤ، ریل گاڑی میں جہاں بیٹھو گے لوگ اسے پڑھیں گے اور خود بخود سلسلہ کلام شروع ہو جائے گا، اور ایک نو آموز شخص کو جو تر ڈر ہوتا ہے کہ میں کس طرح بات شروع کروں اور بسا اوقات سوچتے سوچتے ہی سفرختم ہو جاتا ہے، ایسے اشتہار ایسے تر ڈ سے قطعی طور پر نجات دے دیتے تھے چنانچہ احباب آپ سے یہ اشتہارات لے جاتے اور سفر سے واپس آکر آپ کو تبلیغی حالات سناتے اور اشتہارات واپس کر جاتے۔ایسے احباب کا حوصلہ بلند ہوتا اور تبلیغ کے لئے جرات محسوس کرتے (*) اخویم حکیم محمد سعید صاحب مبلغ سری نگر جن کو سات سال ماسٹر صاحب کے گھر میں رہنے کا موقع ملا ہے۔بیان کرتے ہیں کہ آپ مجھے اکثر تبلیغ کے لئے ساتھ لے جاتے۔گتوں پر جلی حروف میں ” صداقت حضرت نمونہ کے طور پر آپ کے ایک اشتہار کی نقل درج کی جاتی ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم Reward Rs۔20000 نحمده ونصلى على رسوله الكريم پاک محمد مصطفی نبیوں کا بادشاہ بوعدہ انعام ہیں ہزار روپے