اصحاب احمد (جلد 7) — Page 65
65 مجسٹریٹ مذکور کے آنحضرت می ﷺ کے متعلق ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنے پر الفضل میں جو مضامین شائع کئے گئے تھے حکومت پنجاب کی طرف سے ان کی نسبت ہائی کورٹ میں درخواست کی گئی کہ الفضل کے ایڈیٹر اور طالبع و ناشر کو قرار واقعی سزا دی جائے کیوں کہ ہتک عدالت کی گئی ہے لیکن ہائی کورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل کی تقریرین کر یہ قرار دیا کہ یہ معاملہ ایسا نہیں کہ جس میں ہم سزا دینے پر آمادہ ہو سکیں اس لئے کسی کو طلب کئے بغیر درخواست مسترد کردی۔(54) شکریہ احباب کے زیر عنوان آپ کی طرف سے ذیل کا اعلان ہوا: میرے ایک ٹریکٹ پر مقدمہ کے سلسلہ میں مجسٹریٹ نے مجھے انتہائی سزا دی تھی اس کے بعد اپیل کرنے پر سیشن جج صاحب گورداسپور نے سزا کو کم کرتے ہوئے مجھے رہا کر دیا۔اس رہائی کے بعد احباب جماعت نے جس محبت بھرے اور مخلصانہ طریق سے میرا استقبال کیا میں ان کے اس اخلاص اور محبت کا شکریہ ادا کرنے سے قاصر ہوں۔میرا دل اس تشکر و امتنان سے لبریز ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہزار ہزار رحمتیں اس برگزیدہ انسان پر ہوں جس کی وجہ سے مجھے ایک ایسی پاک جماعت میسر آئی۔جس کی نظیر آج دنیا میں نہیں مل سکتی۔اسی طرح دوران مقدمہ میں جن احباب اور بزرگوں نے میرے ساتھ ہر رنگ میں ہمدردی کر کے اپنی لگہمی اخوت کا ثبوت دیا اور میرے لئے خدا تعالیٰ کے حضور خلوص دل سے دعائیں کیں میں ان کا تہ دل سے مشکور ہوں خصوصاً اپنے پیارے آقا و مطاع حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا جن کی دعائیں ہر حال میں میرے لئے باعث سکیت تھیں۔علاوہ ازیں میں اس جگہ اس امر کا اظہار کر دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں جیسا کہ عرصہ دراز سے ساری دنیا کو معلوم ہے ہمارا یہ مذہبی عقیدہ ہے کہ حضرت باوانا تک رحمتہ اللہ علیہ خدا تعالیٰ کے ایک بہت برگزیدہ انسان تھے۔اور آپ نے اسلام کی حقانیت کو اچھی طرح معلوم کر لیا تھا اور آپ صداقت اسلام کے قائل اور معترف تھے اور ایک پاک وصاف مسلمان اور خدا کے پیارے بزرگ تھے۔یہ ہمارا مذہبی عقیدہ ہے جسے ہم کسی صورت میں ترک نہیں کر سکتے اور اس کے لئے خدا کے فضل سے ہر تکلیف و مصیبت برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن بایں ہمہ اگر میری تحریر سے کسی بھائی کا دل دکھا ہو اور اسے رنج پہنچا ہوتو میں اس بات کا سچے دل سے اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ میرا ہر گز یہ مقصد نہیں تھا اور میں اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے ہر شریفانہ معذرت کے لئے تیار ہوں۔کیونکہ اسلام ہمیں ہرگز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ دوسروں کا دل دکھایا جائے۔لیکن ہمارے سکھ بھائیوں کو بھی چاہیے کہ بلا وجہ جوش میں نہ آیا کریں اور دوسرے کی نیت کو سمجھنے کی کوشش کیا کریں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ ہمارے عقیدہ