اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 47 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 47

47 لئے جمع ہو گئے تا کہ مجھے قتل کر دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔عبداللہ شبوطی عدنی جو بعد میں احمدی ہو گئے ان کے بھائی سلطان شبوطی میرے ہسپتال میں کمپونڈ رتھے۔“ جہاں جہاں بھی میں نے تبلیغ کی ہے لوگوں کو خوابوں کے ذریعے صداقت احمدیت کا انکشاف ہوا ہے میں نے ایک عربی عالم کو کتاب الاستفتاء دی اور تبلیغ کر کے ایک بیمار کو دیکھنے چلا گیا۔واپس آیا تو وہ سو کر اُٹھا اور کہنے لگا کہ الآن رئیت مرزا غلام احمد علیه السلام جاء عندى وقال السلام عليكم ورحمة الله کہ ابھی ابھی حضرت اقدس کو خواب میں دیکھا کہ تشریف لائے ہیں اور السلام علیکم فرمایا اسی طرح ایک دوست علاءالدین کیلانی شامی نے خواب میں دیکھا اور وہ احمدی ہو گئے۔“ ۱۹۴۵ء میں میں نے خواب دیکھا کہ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ حبشہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہاں چلے جاؤ۔عدن کے پاس ہی تو ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور" میں ابھی جارہا ہوں۔خواب کی اطلاع دینے پر حضور نے فرمایا ٹھیک ہے حبشہ چلے جاؤ۔۱۹۴۵ء میں وہاں پہنچابا وجودیکہ سرکاری ملازمت میں وہاں کوئی ہندوستانی ڈاکٹر نہیں لیا جاتا تھا۔مجھے لے لیا گیا کیونکہ میں نے ۱۹۳۵ء کی جنگ میں میڈیکل خدمات سرانجام دی تھیں مجھے نو سال تک مختلف ہسپتالوں میں کام کرنے کا موقعہ ملا۔افسر بھی خوش تھے۔حتی کہ انہوں نے مجھے کئی ہزار رو پیدا اپنے جیسے آٹھ ڈا کٹر ہندوستان سے بلوانے کے لئے دیا اور کہا کہ ہمیں کسی پر یقین نہیں۔آپ پر اعتبار ہے۔چنانچہ میں نے ڈاکٹر عبد اللطیف صاحب عدن والے۔ڈاکٹر محمد احمد صاحب کڑک اور ڈاکٹر رفیق احمد صاحب جگا دھری والے اور ماسٹر انعام اللہ صاحب ایم اے بی ٹی کو بلوایا۔“ ابی سینیا کے دار حکومت کے علاوہ ہر ر، دیری دوا اور اسباتفری وغیرہ شہروں میں احمد یہ جماعتیں قائم ہوئیں۔دواموراحمدیت کی طرف متوجہ کرنے کا موجب ہوئے۔ایک یہ کہ ایک مسلمان ڈاکٹر سے شفا حاصل ہوتی تھی۔کسی مسلمان ڈاکٹر کو پہلے نہیں دیکھا گیا تھا ، دوسری میری عربی زبان میں تقاریر ، مباحثات اور مقابلہ کی دعوت۔میں ان کو کہتا تھا کہ اپنے علماء کو مقابلہ پر لاؤ وہ اپنے عقائد قرآن مجید سے ثابت کریں لیکن علماء بھاگتے تھے۔اور اپنے لوگوں کو کہتے تھے کہ ہم پبلک مباحثہ کرنے کو تیار نہیں۔سب سے کاری ہتھیار جو وہاں کام آیا تھا بیماروں کا علاج معالجہ اور نیک سلوک حضرت اقدس کی کتابوں کا تقسیم کرنا اور ان لوگوں کا دعا کرنا کہ یا الہی تو ہم پر احمدیت کے بارے میں انکشاف کردے۔“ سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ تقریر میں فرمایا ڈاکٹر نذیر احم کا اخلاص اس قدر ہے کہ تبلیغ میں فرشتے آسمان سے ان کی مدد کرتے ہیں۔مجھے ابی سینیا سے جو خط آتے ہیں ان میں بسا اوقات