اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 36 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 36

36 گھر دے آؤ۔چنانچہ میں نے تعمیل ارشاد کی پھر آپ کے مطب میں آکر بیٹھ گیا۔۱۲ بجے کے قریب ایک غیر معروف شخص آیا اس نے ایک سوتر اسی روپے چاندی کے مولوی صاحب کے سامنے رکھ دئے۔ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے وہ روپیہ ڈال کر چلتا ہوا۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا کہ وہ مہمان جو روپیہ مانگتا تھا کہاں ہے میں نے عرض کی کہ مہمان خانہ میں ہے فرمایا کہ جاؤ سے بلا لاؤ۔چنانچہ میں اسے بلا لیا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ بھائی یہ اپناروپیہ لے لو اس پر مہمان نے معذرت کی کہ حضور کو تکلیف ہوئی ہوگی۔آپ نے فرمایا کہ ہم نے تواللہ تعالی سے سودا کیا تھا کہ دورو پے کی مستحق بیوہ کو دے اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں یہ رو پیدا ر سال کر دیا ہے۔“ ایک دفعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کو روپے کی ضرورت در پیش تھی۔حضرت اقدس سے آپ نے دوصد یا کم و بیش روپیہ منگوایا کچھ دنوں کے بعد اتنا روپیہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں واپس کرنے کے لئے پیش کر دیا۔اس پر حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب ! کیا ہمارا اور آپ کا روپیا الگ الگ ہے آپ اور ہم دو نہیں ہیں۔آپ کا روپیہ ہمارا اور ہمارا روپیہ آپ کا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضور نے تو روپیہ نہیں لیا۔گو ہم نے کسی اور رنگ میں دے دیا۔“ خلافت ثانیہ سے وابستگی : ماسٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ: ایک دفعہ کسی نے حضرت خلیفہ امسیح اول کی خدمت میں مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے رپورٹ پیش کی کہ ہم تو صدق دل سے حضور کے خادم ہیں اس پر آپ نے فرمایا کہ صرف ظاہر داری ہے یہ مرید شرید نہیں ہیں جب لاہور سے اخبار ”پیغام صلح کا اجرا ہوا تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا یہ تو پیغام جنگ ہے (حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد ) جب مولوی محمد علی صاحب نے الگ پارٹی لاہور میں بنالی اور اکثر متلاشیان حق کو ( مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کے پراپیگنڈہ کے زیر اثر ) بیعت کرنے میں دبد بھا تھا۔میں نے ایک غیر احمدی طالب علم کو جو لاہور میں تعلیم پاتا تھا کہا کہ تم نہ تو مبایع ہونہ غیر مبالع۔تم دو نفل پڑھ کر استخارہ کرو کہ فریقین میں سے کون سا گر وہ حق پر ہے۔اس نے استخارہ کیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک بڑا جلوس آرہا ہے نزدیک آنے پر معلوم ہوا کہ فضل عمر اس کا امام اور لیڈر ہے اور مولوی محمد علی صاحب چھوٹے قد کے ہو کر عورت کی شکل پر ہو گئے ہیں اور ایک چادر بچھا کر بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری بیعت پانچ پیسے ادا کرنے پر ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔“ خلافت ثانیہ کے آغاز پر اللہ تعالیٰ نے ماسٹر صاحب کو ثابت قدم رکھا اور اس کے ساتھ وابستگی اور پھر استقامت کی توفیق عطا فرمائی۔آپ نے غیر مبایعین کے معتقدات کی تردید اپنی تحریرات میں کی جس کا ذکر اس