اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 37 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 37

37 کتاب میں دوسری جگہ کیا گیا ہے یعنی پیغامیوں اور مولوی محمد علی صاحب کا رد اور امامت و خلافت نیز مولوی محمد علی صاحب کی کتاب النبوۃ فی الاسلام کے متعلق ماسٹر صاحب کا ایک مفصل مضمون ختم نبوت کے بارے میں الفضل ۱۸ ؍جون ۱۹۱۸ ء میں شائع ہوا۔قادیان میں تعمیر مکان : حضرت مسیح موعود کے مکتوبات سے بھی ظاہر ہے کہ قادیان میں مہاجرین کے لئے حصول مکانات میں از حد دقت تھی کچھ تو مکانات بھی کم تھے اور زیادہ تر تعصب و مخالفت کے باعث غیر مسلم کرایہ پر دیتے نہ تھے۔کرایہ دینے پر بھی تنگ کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود" تحریر فرماتے ہیں۔اس جگہ بڑی مشکل یہ ہے مکان نہیں ملتا اکثر لوگ شرارت سے دیتے نہیں " ☆ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضرت ماسٹر صاحب کی شادی ہوئی۔مکان نہ ملتا تھا۔بالآخرسید محمد علی شاہ صاحب مرحوم نے اپنا باورچی خانہ دیا اور اسی کمرے میں آپ کی بڑی بچی کی ولادت ہوئی۔پھر آپ حضرت مولوی حکیم فضل الدین صاحب بھیروی والے چوبارہ میں جو مہمان خانہ کے اوپر تھا۔فروکش ہوئے۔ایام طاعون میں کافی عرصے تک دونوں میاں بیوی کو الدار میں رہنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔سراج منیر میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ ۱۸۸۲ء کے قریب آپ کے پاس صرف دو تین آدمی آتے تھے اور وہ بھی کبھی کبھی ، اس وقت آپ کو الہام الہی سے حکم صادر ہوا۔وَسِعُ مَكَانَكَ (27) بعد ازاں بھی کئی بار یہ الہام ہوا۔اواخر ۱۹۰۷ء میں بھی ہوا۔قادیان میں سلسلہ کی عمارات بلکہ احمدی مہاجرین کے مکانات کی تعمیر علاوہ ازیں ربوہ کی تعمیر اور تمام ممالک میں دیار التبلیغ اور مساجد کی تعمیر ان ہی الہامات کی تعبیر ہیں کیونکہ ان الہامات میں مقام کی کوئی قید نہیں۔خلافت اولی میں محلہ دار العلوم میں حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی تعلیم الاسلام ہائی سکول، مسجد نور وغیرہ تعمیرات کا آغاز ہوا۔رساله تشخیذ الاذہان بابت اکتوبر ۱۹۱۶ء میں ”ہمارے بھائیوں کے مکان دارالامان میں“ کے زیر عنوان مندرجہ ذیل کو ائف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک دارالفضل میں صرف ایک درجن مکانات تعمیر ہوئے تھے اور لکھا ہے: یہ مکتوب غالباً ۱۹۰۲ء کار قم فرمودہ ہے (بحوالہ اصحاب احمد جلد دوم ص ۳۹ حاشیہ ص ۱۴۰