اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 24 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 24

24 آتے ہیں۔یوپی تک بزازی کی تجارت کرتے ہیں لیکن اپنے اہل وعیال انہوں نے قادیان میں ہی رکھے ہوئے ہیں۔مستقل طور پر ان کو ساتھ لے جانا پسند نہیں کرتے ، غرضیکہ ان امور کی کشش غیر مسلموں کو بھی مجبور کر رہی ہے کہ یہاں مکانات اور دوکانات خریدیں ، ان کا مالک ہو جانے کی وجہ سے وہ ان کی حفاظت کے لئے ان کو مرمت کرا رہے ہیں۔سفید قطعات میں نئے مکانات اور دکانیں تعمیر کر رہے ہیں۔شفاخانہ، ڈاک، تار، ٹیلی فون بجلی کی تمام سہولتیں میسر ہیں۔ریلوے اسٹیشن پر کئی سال سے بجلی لگ چکی ہے۔ریل گاڑی موسم سرما میں چار بار اور موسم گرما میں پانچ بار جاتی ہے۔چند سال سے بٹالہ سے موضع اولکھ اور بھیٹ کے پتن تک بس سروس جاری تھی لیکن بس سے قادیان کے مسافروں کو موضع کا ہلواں کے نزدیک اتر کر پیدل قادیان آنا پڑتا تھا۔اب قریباً نصف سال سے تین چار بار بس سروس بٹالہ سے بطرف اولکھ اور پتین مذکور براستہ قادیان جاتی ہے اور یکم اگست سال رواں سے سرکاری بس سروس جالندھر تا قادیان براسته با با بکالا شروع ہوئی ہے جو دو بار آتی ہے۔اس طرح جالندھر اور ہوشیار پور سے کام کر کے اسی روز واپس آجانا ممکن ہو گیا ہے۔بٹالہ تا جالندھر یہ سروس چند ماہ قبل سے جاری تھی۔اس سے پہلے جالندھر براستہ امرتسر جانے سے ایک گھنٹہ زیادہ صرف ہوتا تھا اور کرایہ بھی لازماً زیادہ دینا پڑتا تھا۔قادیان میں کم و بیش پون درجن ٹانگے بھی موجود ہیں جو بٹالہ اور مضافات میں بکثرت چلتے ہیں۔نصف سال سے ایک سات سواری والا سکوٹر (موٹر رکشا ) بٹالہ قادیان کے درمیان چل رہا ہے۔قادیان کے شرق کی طرف بوڑھی صاحب سے درے ایک رجباہا نکالا گیا ہے جو قادیان کے کچھ حصہ کو سیراب کرتا ہے۔۱۹۵۵ء میں قادیان و بٹالہ کے مابین سڑک پختہ بننے لگی اور قریبا سات میل تک تعمیر ہوگئی۔پھر کچھ عرصہ التوار رہا اور آخر ۱۹۵۸ ء تک موضع ڈلہ کے موڑ تک پختہ بن گئی۔اور سال رواں میں مارچ اپریل تک موضع کا ہلواں سے دارالانوار تک جونئی سڑک بنائی گئی ہے یہ موضع منگل باغباناں کے مشرق کی طرف سے گزر کر دار الانوار میں بیت الظفر کے مغرب سے باوون کے باغ سے ہوتی ہوئی دارالعلوم کے جنوبی کنارہ پر واقع مکان حضرت مولوی شیر علی صاحب کے قریب ریلوے روڈ سے جاملتی ہے۔اور جو پرانا راستہ موضع ڈلّہ کے موڑ سے قادیان تک کا ہے وہ بھی اواخر جولائی تک پختہ بن چکا ہے اور محلہ دارالصحت کے بیچوں بیچ جانے کی بجائے اس کے مغرب کی طرف سے ہو کر پرانے اڈے تک پہنچتا ہے کیونکہ دارالصحت کے بیچوں بیچ گزرنے والا راستہ تنگ ہونے کے باعث وہاں سے بسیں نہیں گزر سکتیں۔گویا بٹالہ سے قادیان آتے ہوئے بسیں اور ٹانگے وغیرہ ڈلہ کی طرف سے قادیان میں داخل ہوتے ہیں۔اور قادیان سے موضع ہر چو وال اور اس سے آگے بھینٹ کے پین وغیرہ جانے کے لئے