اصحاب احمد (جلد 7) — Page 23
23 23 (21) بٹالہ میں کھیلوں کے اجتماع میں قادیان سے بھی ٹیم شامل ہوئی اس کے ذکر میں مرقوم ہے کہ ہمارے سکول کا ایک لڑکا یکہ سے گر پڑا۔سخت چوٹ آئی۔ضرورت ہے کہ یہ سڑک بہت جلد بنوائی جائے ورنہ خطرہ جان ہے۔مشاورت ۱۹۲۲ء میں ایک قرار داد منظور کر کے صدر ڈسٹرکٹ بورڈ گورداسپورسیکرٹری بورڈ مواصلات (23) پنجاب اور گورنر پنجاب کو بھجوائی گئی۔(22) لیکن بالآخر جماعت کو بتایا گیا کہ یہ سڑک پختہ نہیں کی جاسکتی۔قدرت الہی کا کرشمہ دیکھئے کہ باوجود یکہ تقسیم ملک کے بعد قادیان کی آبادی سولہ ہزار سے کم ہو کر دس ہزار تک پہنچ گئی لیکن پھر بھی ڈیڑھ دوصدد کا نہیں جاری ہیں اور اب سال گذشتہ سے بہت سے مکانات اور دکانات محکمہ کسٹودین کی طرف سے نیلام ہو رہے ہیں۔گو قادیان میں ذرائع آمد پہلے سے نہیں رہے تمام کارخانہ جات ( سٹار ہوزری ورکس میکنیکل انڈسٹریز آئرن میٹل ورکس۔میک ورکس وغیرہ جن میں لاکھوں روپیہ کا مال بنتا تھا ) معدوم ہو چکے ہیں۔یہ کارخانے اس علاقے کے ہزار ہا غیر مسلموں کے لئے بھی اکتساب معاش کا ذریعہ تھے۔جماعت احمدیہ کا ایک طبقہ دیگر اضلاع وصوبجات سے قادیان کی برکات کے حصول کے لئے ہجرت کر آتا تھا۔بہت سے احباب دیگر ممالک سے بھی اہل و عیال کو بچوں کی تعلیم کی خاطر بھجواتے تھے گویا کہ ان کی آمد کے ذرائع دیگر اضلاع صوبجات یا ممالک میں ہوتے تھے۔لیکن اب قادیان کی آبادی مزید کم ہونے سے رک گئی ہے۔جس کا باعث قادیان کی جاذبیت ہے جو اول اس وجہ سے ہے کہ قادیان میں شہری اور دیہاتی ہر دو قسم کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور شہری نقائص سے اس وقت تک بھی کافی حد تک متبرا ہے ہائی سکول کے علاوہ کالج بھی موجود ہے۔دوم۔مکانات بہت ہی عمدہ اور دل پسند ہیں۔ہر ایک ضرورت ان میں سے پوری ہو جاتی ہے۔سوم۔باوجود یکہ مکانات نہایت عالی شان ہیں لیکن ان کی کثرت کے باعث اور نئے حالات پیدا ہونے کے باعث ان کے کرائے اور قیمتیں حد درجہ کم ہیں۔اس لئے بہت کم کرایہ اور قیمت پر عالی شان مکان دستیاب ہو جاتے ہیں۔چہارم۔پختہ سڑک موضع ہر چوال تک اور کچی ہموار سڑک وہاں سے موضع بھیٹ کے پین تک بن گئی ہے، اور اس علاقہ کی منڈی قادیان بن گئی ہے۔اب بھی قادیان سے کراکری ، برتن ، بزازی زیورات ، لوہے کا سامان، سیمنٹ ، پتھر کا کوئکہ دیسی اور انگریزی ادویہ ضروریات بسہولت دستیاب ہو جاتی ہیں۔کچھ لوگ اپنے طویل قیام کے باعث مانوس ہونے سے یا اپنے اقارب کی وجہ سے ماحول ترک کرنا مناسب خیال نہیں کرتے۔ان وجوہات کی بناء پر قادیان میں آکر بسنے والے غیر مسلم پناہ گزین اس میں قیام کو ترجیح دیتے ہیں۔کئی سوا افراد بھائیہ قوم کے سبزی ترکاری ، بزازی وغیرہ کئی کئی من سائیکل پر لاد کر روزانہ ہیں ہیں میل تک فروخت کر