اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 197 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 197

197 اور لوگ باہر کی کھلی آب و ہوا میں کچھ دن کاٹیں۔جب اللہ تعالی طاعون سے امن بخشے اور شہر میں صفائی وغیرہ ہو جائے تب شہر میں واپس آئیں۔دوسرے حصہ میانہ کے سر بر آوردہ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہماری طرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور باہر جانے سے ہمیں تکلیف ہوگی۔اس لئے ہمیں شہر میں رہنے دیا جائے۔حکومت نے ہر چند تسلی دی کہ آپ لوگوں کے پردہ اور آرام و آسائش کا کافی سامان کیا گیا ہے۔باہر جانے میں کوئی تکلیف نہ ہوگی مگر ہمارے بزرگوں نے نہ مانا اور اپنی بات پر مصرر ہے آخر کار حکومت نے مجبور ہو کر ملٹری کا پانچ سو مسلح جوان منگوایا اور ایک دن اعلان کیا کہ سارا شہر خالی کر دیا جائے ورنہ فوج کے ذریعہ خالی کرایا جائے گا۔۔۔۔لیکن باوجود اس کے ہمارے بزرگوں نے نہ مانا حتی کہ نوبت لڑائی تک پہنچی۔میں بھی جو اس وقت بچہ تھا اس لڑائی میں شامل ہوا۔رعایا کے پاس لاٹھی اینٹ اور پتھر وغیرہ تھے اور فوج کے پاس گولی بارود۔جب لوگوں کی طرف سے اینٹ پتھر وغیرہ کی بوچھاڑ ہوئی تو مجبور ہو کر فوج نے اپنے افسروں سے گولی چلانے کی اجازت چاہی۔افسروں نے ان کو خالی فائر کرنے کی اجازت دی تا لوگ ڈر کر بھاگ جائیں مگر لوگوں نے شور کیا کچھ نہیں۔خالی فائر ہیں۔ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں اپنا کام جاری رکھو۔آخر کار افسروں نے جب دیکھا کہ لوگ مقابلہ کرتے ہیں تو گولی چلانے کا حکم دیا، اس پر جب چند آدمی گولی سے مارے گئے تو لوگ بھاگے اور میں بھی مجمع سے نکل کر اپنے گھر آ گیا۔اس کے بعد فوجی لوگوں نے گلی گلی پھر کر یہ اعلان کیا کہ لوگو! باہر چلے جاؤ۔وہاں آپ لوگوں کے لئے آرام کا سامان ہو چکا ہے اس پر شام تک سارا شہر خالی ہو گیا اور خالی شہر پر فوجی پہرہ لگایا گیا تا شہر میں کوئی داخل نہ ہو اور لوگوں کے کیمپوں سے نصف میل کے فاصلے پر بھی لوگوں کی حفاظت کے لئے پہرہ کا انتظام کر دیا گیا۔اس طرح یہ انتظام تقریباً تین ماہ تک رہا اور جب اللہ تعالیٰ نے طاعون سے امان بخشی اور سرکار کی طرف سے شہر کی صفائی کا انتظام بھی ہو چکا تو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب رض میں اگر چہ بچہ تھا مگر میں نے دیکھا کہ ایام طاعون میں اکثر لوگ کیمپ میں نماز پڑھنے لگ گئے۔میری جائے رہائش ایک کنوئیں کے قریب تھی جہاں ایک چھوٹی سی مسجد بنالی تھی اور میں اس میں اذان دیتا تھا۔میری آواز بفضل خدا تعالیٰ بہت بلند اور اچھی تھی۔ارد گرد کے لوگ وہاں آ جاتے۔اور نماز ادا کرتے۔ا بھی میں احمدیت سے بالکل ناواقف تھا۔مسجد میں ایک بہت بوڑھے نابینا بزرگ آتے تھے جو احمدی تھے اور نماز عام طور پر الگ پڑھتے۔ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ بچے ! تم مجھے دوسرے تیسرے دن ہسپتال میں ڈاکٹر صاحب کے پاس چھوڑ آیا کرو۔ان ایام میں ڈاکٹروں کی نسبت عام طور پر مشہور تھا کہ دوائی دے کر مار دیتے