اصحاب احمد (جلد 7) — Page 189
189 (۱۲) مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوی تحریر کرتے ہیں۔قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے خاکسار سے خطبہ الہامیہ کے سنانے کا واقعہ اپنے مشاہدہ کی رو سے مفصل سنایا تھا۔اگر چہ یہ واقعہ مشہور ہے اور روز روشن میں کئی لوگوں کے سامنے ظہور میں آچکا ہے لیکن ہر ایک دیکھنے اور سننے والا اپنے مذاق کے مطابق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور پھر اپنے مذاق کے رنگ میں ہی دوسروں کے آگے بیان کرتا ہے۔اس لئے قاضی صاحب مرحوم کا بیان کردہ حال جہاں تک میرے ذہن میں محفوظ ہے اس جگہ تحریر کر دیتا ہوں ممکن ہے کہ کوئی حصہ اس کا شائع شدہ حالات سے زائد ہو اور اس کا اظہار دوسروں کے لئے مفید ہو۔قاضی صاحب نے فرمایا کہ وہ واقعہ عید الاضحیٰ کا تھا جس کی وجہ سے ہم اور کئی دیگر مشتاقین حضور کی زیارت اور ارشادات سے فیضیاب ہونے کے لئے دور دور سے آئے ہوئے تھے۔اگلے دن عید تھی لیکن حضرت اقدس اچانک دورہ اسہال سے سخت بیمار ہو گئے۔احباب جماعت کو بہت فکر تھا کہ حضرت اقدس کی بیماری کی وجہ سے ہمیں حضور کی صحبت اور ارشادات سے محروم نہ رہنا پڑے۔چنانچہ رات کو حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت اقدس کی عیادت اور مزاج پرسی کے واسطے اندر تشریف لے گئے تو انہوں نے آئے ہوئے مہمانوں کے جذبات اور اشتیاق کی ترجمانی کرتے ہوئے عرض ( کر کے دریافت ) کیا کہ کیا حضور کل عید پر تشریف لے جائیں گے، اس پر حضور نے فرمایا کہ مفتی صاحب آپ دیکھ رہے ہیں کہ بیماری کے دورہ سے کس قد رضعف ہو رہا ہے اس حالت میں میں کس طرح جا سکتا ہوں۔چنانچہ جب حضرت مفتی صاحب نے حضرت اقدس کا یہ حال اور یہ فرمان باہر آ کر مشتاقین اور منتظرین کو سنایا تو سب پر افسردگی چھا گئی اور حضرت اقدس کی صحت وعافیت کے لئے دعائیں ہونے لگ گئیں رات گذرگئی۔اگلے دن یعنی عید کی صبح کو جب حضرت مفتی صاحب کو حضور کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا تو حضور نے ان کو دیکھتے ہوئے نہایت خوشی کے لہجہ میں فرمایا کہ مفتی صاحب ہم نے تو کل آپ کو جواب ہی دے دیا تھا لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی درخواست کو منظور فرمالیا ہے اور ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے الہاماً ارشاد ہوا ہے کہ اس موقع پر ہم کچھ تقریر کریں۔سواگر چہ اس وقت تک ہم اپنے ضعف کی وجہ سے اس قابل نہیں ہیں کہ باہر جاسکیں یا کچھ نا سکیں لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے۔اس لئے ہمیں یقین ہے کہ وہ اس کی طاقت اور توفیق بھی عطا کر دے گا۔” جب حضرت مفتی صاحب باہر تشریف لائے تو انہوں نے حاضر آمدہ مہمانان کو حضرت اقدس کی طرف سے یہ بشارت سنادی اور لوگوں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔اس کے بعد جب حضور مسجد اقصیٰ میں عید کی نماز کے لئے تشریف لے گئے تو ضعف کی وجہ سے احباب کے سہارا دینے سے حضور نے راستہ طے کیا۔لیکن خطبہ پر کھڑا ہوتے ہی حضور کو اللہ تعالیٰ نے خاص طاقت اور توانائی عطا فرمائی۔چنانچہ حضور نے پہلے اردو میں تقریر