اصحاب احمد (جلد 7) — Page 171
171 مکرر یہ ہے کہ محمود احمد کی والدہ چاہتی ہیں کہ ایک دن کے لئے محمود احمد کی خبر لے آویں۔مناسب ہے کہ میاں معراج دین صاحب کو اطلاع دے چھوڑیں کہ ایک دن کے لئے اپنا حصہ مکان جہاں پہلے رہی تھیں خالی کرا دیں صرف ایک رات رہیں گی ابھی یہ بات ایسی پکی نہیں ہے مگر شاید وہ روانہ ہوں۔محمود احمد کو بہت یاد کرتی ہیں اور بے قرار ہیں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ اس چٹھی پر ذیل کی یادداشت درج ہے۔یہ رقعہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب کے دست مبارک کا لکھا ہوا ہے جو کہ فاطمہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب کے پاس سے ملا ہے اور تبر کا اس کو اپنے پاس رکھتا ہوں۔فقط محمد عبد اللہ احمدی بوتا لوی۔“ (۳) تحریر حضرت ام المومنین۔مبارک بسکٹ مانگتا ہے۔اے میرے اے میرے خدا محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب کے متعلق جلد ششم میں لکھا جا چکا ہے کہ ان کو عرصہ دراز تک حضرت ام المومنین کی خدمت میں دارا مسیح میں رہنے کا موقع ملا۔موصوفہ سے مولوی عبداللہ صاحب بوتالوی روایت کرتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنین نے تحریر بالا تین سطروں میں لکھی اور دوات میں ڈوبا لگانے کی وجہ سے سطریں بھی سیدھی نہ آئیں۔اس عبارت کے علاوہ بھی حضرت ام المومنین نے ایک کاغذ پر یہ فقرہ لکھا تھا کہ محمود میرا پیارا بیٹا ہے کوئی اسے کچھ نہ کہے۔لیکن یہ کاغذ امتہ الرحمن صاحبہ سے گم ہو گیا اور یہ دوسرا کا غذ محفوظ رہا۔ان فقرات میں والدہ کی اپنے بچوں سے محبت کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تحریر لکھی وہ یہ تھی کہ انسان کو چاہیے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور پنجوقتہ اس کی خدمت میں حاضری دیتا رہے۔یہ کاغذ دستیاب نہیں ہوا۔اس عبارت سے بھی جو گھر میں عام بے تکلفانہ کیفیت میں لکھی گئی۔یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ سے کیسی گہری محبت تھی کہ ہر وقت اس خیال میں متفرق رہتے۔تحریرات حضرت خلیفہ امسیح اول: (1) مولوی صاحب نے جب ایل الصحضرت طلیقہ ایسی اول کی خدمت میں لکھی حضرت خلیفہ اسیح صاحب دام الطافلم۔