اصحاب احمد (جلد 7) — Page 165
165 کے صاف کرنے میں بہت محنت کرنی پڑی۔آپ ۱۹۲۳ء کی شوریٰ میں بھی شریک ہوئے اس کی رپورٹ سے آپ کی ایک عمدہ تجویز کا علم ہوتا ہے جو کہ منظور کی گئی تھی چنانچہ ”سب کمیٹی تالیف واشاعت کی رپورٹ میں مندرج ہے۔(۵) الف۔مولوی عبداللہ صاحب بوتالوی کی تجویز کہ ہر غیر احمدی کام کرنے والے سے (ارتداد ملکانہ میں ) جو ہمارے ساتھ کام کرنا چاہے ایک تحریری معاہدہ لیا جائے کہ وہ ان شرائط کی پابندی کرے گا جو حضرت خلیفہ اسیح کی تجویز کردہ ہیں فیصلہ ہوا کہ منظور ہے (۶) مولوی عبداللہ صاحب بوتالوی نے تجویز پیش کی کہ اس امر کا اعلان عام طور پر کیا جائے کہ استعداد کے آدمی بھی اس خدمت میں حصہ لے سکتے ہیں۔عالم ہونا ضروری نہیں کیونکہ ممکن ہے بعض لوگ اس وجہ سے رکے ہوئے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی خدمت کے قابل نہیں۔یہ اعلان بذریعہ اشتہارات بھی ہو اور بذریعہ زبانی اعلان کے بھی ہو۔فیصلہ ہوا کہ منظور ہے“ ۱۹۲۳ء کے بعد کی شوری ہائے کی جور پورٹیں دستیاب ہوسکی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ (الف) ۱۹۳۰ء کی شوریٰ میں آپ شامل ہوئے۔(ب ) ۱۹۳۳ء میں بھی شامل ہوئے اس وقت آپ اہلمد محکمہ نہر سرگودھا‘ تھے (رپورٹ مشاورت ) چنانچہ اس شوریٰ میں سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۳۴ ۱۹۳۳ء کے لئے ایک سب کمیٹی مال مقرر فرمائی اس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت میر محمد الحق صاحب اور محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب جیسے ممتاز افراد بھی شامل ہوئے۔فرمایا کہ دوران سال میں کئی بار اجلاس ہوں گے جن میں میں بھی شامل ہوں گا۔حسب توفیق حاضری ضروری ہوگی اور اس میں شمولیت کے لئے استعفیٰ پیش کر دینے سے نیچے نیچے دیانتداری سے ہر کوشش کر کے شامل ہوں۔اس سب کمیٹی کے ایک ممبر مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی بھی تھے (13) (ج) ۱۹۳۴ء کی شوری میں سب کمیٹی دعوۃ تبلیغ کے آپ ممبر مقرر ہوئے (14) اس وقت آپ ”اہلمد محکمہ نہر سرگودھا تھے۔(۱) ۱۹۳۵ء میں آپ سرگودہا کی طرف سے شامل ہوئے اور سب کمیٹی نظارت اعلیٰ و بہشتی مقبرہ کے