اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 161 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 161

161 یہ کتاب خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہے اس کے آخر پر آپ نے مندرجہ ذیل عبارت تحریر کی تھی۔الحمد للہ کہ رسالہ ہذا سمی به فت الخبیر حسب الارشاد فیض بنیاد حضرت سیدنا ومولانا و مرشد نا خلیفہ اسیح والمهدی حضرت حاجی حافظ مولوی نورالدین صاحب ادام اللہ فیوضہ وایدہ اللہ بنصرہ از دست ذرہ بے مقدار خاکسار محمد عبداللہ عفاہ اللہ ساکن بوتالہ ضلع گوجرانوالہ بتاریخ ۹ را پریل ۱۹۱۲ء با تمام رسید۔ہر کہ خواند دعا طمع دارم بازاں کہ من بنده گنہ گارم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب سے آپ کے خاص محبت کے تعلقات تھے چونکہ حضرت میر صاحب اکثر بیمار رہتے تھے اور اکثر تیم کی ضرورت ہوتی تھی اور وقت پر پاک مٹی کا تلاش کرنا ایک خاص مرحلہ ہوتا ہے اس لئے میر صاحب نے ایک چھوٹا سا ڈبہ بنوایا تھا جس طرح کہ سنا رلوگ ہار وغیرہ احتیاط سے رکھنے کے لئے چھوٹا سا بکس بناتے ہیں۔اس کا سائز اس قدر تھا کہ اگر اسے کھول کر میز پر رکھا جائے تو ایک طرف دایاں ہاتھ اور دوسری طرف بایاں ہاتھ بیک وقت نہایت آسانی سے کھول کر رکھے جاسکیں اور کسی جگہ سے پاک مٹی لے کر اسے بار یک چھان کر تھیلوں میں بھر کر بکس کے دونوں جانب تھیلے رکھ دیئے تھے کہ بکس کو بند کرنے کی صورت میں بھی مٹی گرے نہیں۔البتہ دونوں ہاتھ اس پر مارنے پر کچھ مٹی چھن کر باہر نکل آئے اور ہاتھوں کر لگ جائے جس سے تیم کیا جائے اس بکس پر سرخ ریشمی غلاف مڑھا ہوا تھا اس پر فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا (7) خوش خط لکھنے کے لئے میر صاحب نے آپ کے پاس بھجوایا۔غرض یہ تھی کہ بکس کی غرض کا اوپر سے دیکھنے سے ہی علم ہو جائے۔چنانچہ آپ کو یہ الفاظ اس بکس پر خوش خط لکھنے کی خدمت کا موقع بھی ملا۔ملازمت بوتالہ میں مخالفت کے تیز تر ہو جانے پر آپ کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی چنانچہ آپ بھیرہ چلے آئے اور وہاں سے پٹوار کا امتحان پاس کر کے نزدیک ہی موضع چاوہ میں آٹھ روپے ماہوار پر پٹواری لگ گئے۔اسی زمانہ کا ایک واقعہ آپ کا بیان کردہ سیرۃ حضرت مولوی شیر علی صاحب میں یوں درج ہے۔ایک دفعہ موضع چاوہ میں جہاں مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی نہر کے پٹواری تھے۔حکیم صاحب موصوف ( حکیم شیر محمد صاحب جو مولوی شیر علی صاحب کے چچا تھے ) اپنی زمین دیکھنے کے سلسلہ میں گئے اور بوتالوی صاحب کو تبلیغی شوق کے نشہ میں چور ہو کر احمدیت کے مسائل نہایت عمدگی سے سمجھانے لگے (حکیم صاحب کو یہ علم نہیں تھا کہ کہ مولوی بو تالوی صاحب احمدی ہیں ) جب واپس جانے لگے تو مولوی صاحب ان کی مشایعت کے لئے چند قدم آگے تک گئے اور اس حقیقت کو ظاہر کیا کہ میں تو خدا کے فضل سے پہلے ہی احمدی ہوں۔آپ کی