اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 160 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 160

160 رڈیا کا بھی ذکر کیا جو مجھے بیعت کی حقیقت بتانے والی تھی اور جس کو نمبر شمار (۱) پر درج کیا گیا ہے (6) ”میری بیعت اخبار الحکم نمبر ۶ جلد ۵۔۷ افروری ۱۹۰۱ء کے صفحہ ۸ پر شائع ہوئی ہے علاوہ اس کے تاریخ ۲۰ فروری ۱۹۰۱ء پیر سراج الحق صاحب نعمانی قادیانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط خاکسار کو ملا۔جس میں انہوں نے تحریر فرمایا کہ آپ کا بیعت کا خط حضرت صاحب کی خدمت میں سنایا گیا۔حضور نے بیعت کو منظور فرمایا ہے اور استغفار اور درود شریف کی مدوامت کا ارشاد فرمایا ہے اور نیز دوسرے تین آدمیوں کی بھی بیعت جن کا نام آپ نے تحریر کیا ہے منظور فرمایا ہے جن کے نام حسب ذیل ہیں مولوی محمد حسین صاحب پھلو کے اور رحیم بخش صاحب و نظام الدین صاحب ساکن پچھلو کے (*) فن کتابت کا حصول اور اس کا بابرکت ہونا آپ کے والد ماجد خوشنویسی کا کام کرتے تھے اور آپ کا خط بھی بہت اچھا تھا۔اس وجہ سے والد ماجد کی وفات کے بعد ہمدردا حباب کے مشورہ سے آپ نے فن کتابت سیکھنے کا فیصلہ کیا تا کہ گذارہ میں دقت پیدا نہ ہو۔چنانچہ آپ نے جنڈیالہ میں قاضی امام الدین صاحب سے فن کتابت سیکھا اور پھر لاہور میں حسام الدین صاحب اور بعض خاص اساتذہ سے اس فن کی تکمیل کی اور پھر اس فن کو اپنے تک ہی آپ نے محدود نہیں رکھا بلکہ بہت سے نو جوانوں کو سکھلایا چنا نچہ وہ لوگ کتابت کے ہی ذریعہ اپنا اپنا گزارہ بہت اچھی طرح کر رہے ہیں۔چنانچہ آپ کے خاص شاگر د حسب ذیل ہیں۔(۱) منشی عطاء اللہ صاحب ساکن ملک پور حال لاہور (۲) منشی یوسف علی صاحب حال لاہور (۳) منشی گل محمد صاحب سرگودہا (۴) بشیر احمد صاحب سرگودہا اس فن کی وجہ سے ملازمت میں بھی آپ نے افسران سے اچھے ریمارکس حاصل کئے۔علاوہ ازیں حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خاص مرغوب کتاب وفتح الخیر تکملہ کتاب فوزا الكبير للامام الجليل العظیم شاہ ولی اللہ ابن عبدالرحیم جو 29 صفحات پر مشتمل ہے آپ نے حضرت ممدوح کے لئے قلمی لکھی۔آپ بیان کرتے تھے کہ حضرت محروح نے متعدد مرتبہ بوقت ملاقات فرمایا کہ جب میں آپ کی لکھی ہوئی کتاب دیکھتا ہوں تو بے اختیار میرے منہ سے آپ کے لئے دعا نکلتی ہے۔بیعت الحکم پر چہ مذکور میں یوں مرقوم ہے۔محمد عبدالله خوش نویس بوتالہ سردار جھنڈا سنگھ گوجرانوالہ حال بھیرہ مولوی محمد حسین صاحب پھلو کے۔مولوی رحیم بخش صاحب پھلو کے۔مولوی نظام الدین صاحب پھلو کے۔